باڑ لگانے کا مقصد گوادر کی حفاظت یا سی پیک کی ؟
تحریر : نبیلہ ناز
ویسے تو پاکستان کی سر زمین قدرتی حسن سے مالا مال ہے چاہے وہ پھر معدنیات ہوں یا سوئی گیس یا قدرت کے دلفریب نظارے ۔۔
لیکن بد قسمتی سے وسائل کو ٹھیک طرح سے استعمال نہیں کیا جاتا ان سے ہمیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ۔ سوئی گیس کے اپنے مقام پہ گیس کا نا ہونا ، معدنیات سے بھرپور علاقوں میں اب تک غربت نہایت افسوس کی بات ہے
اسی طرح اگر بات کی جائے گوادر شہر کی جو ہمارے پاس نہایت قیمتی ذریعہ ہے اپنی معیشت کو بڑھانے کا لیکن بدقسمتی سے وہ بھی ہم نے اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا چونکہ ہمارے پاس قیمتی اور جدید طرز کی مشینری آلات نہیں ہیں جس کے سبب ہم اپنے لیے وہ پراجیکٹ شروع کرنے سے محروم رہے جو ہمسایہ ملک یہاں آ کر تعمیر کر دیا ، لیکن ہمیں ایک طرح سے شکر گزار ہونا چاہیے ہمسایہ ملک کا جس کے پراجیکٹ کے سبب ہماری شستہ حال سڑکوں کی کم از کم مرمت ہو گئی اور وہ چلنے کے قابل بن گئی , اگر بات کی جائے گوادر شہر کی سڑکوں کی یا وہاں موجود زیرو پوائنٹ اور کوسٹل ہائی ویز کی تو وہاں پر سڑکوں کا بننا ایک طرح سے اچھی بات ہے
لیکن یہ بات بلکل گوادر کے لوگوں کے حق میں بہتر نہیں ہے کہ وہاں موجود پراجیکٹ میں باہر سے آنے والوں کو مواقع دیے جا رہے ہیں لیکن اپنے ملک کے تمام انجینیئرز بلکہ بیروزگار انجینیر کسی کو نظر نہیں آ رہے ، کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے ملک کے پروجیکٹ کو اپنے ہی لوگوں کے فائدے کیلئے استعمال کریں ۔۔
اور اب ایک انجانا سا فیصلہ ہو رہا ہے گوادر شہر کی حفاظت کے حوالے سے یا پھر یہ کہیں کہ سی-پیک کو اور محفوظ بنایا جا رہا ہے علاؤہ مکینوں سے ہی ۔
آخر کیوں ؟
گوادر شہر کو باڑ لگانے کا فیصلہ ۔۔
کیا اس فیصلے سے وہاں کی عوام مطمعین ہے ؟ یا اس وفاق کے فیصلے کو وہاں کے لوگوں پہ مسلط کیا جا رہا ہے ، گزشتہ روز بھی گوادر کے کئی حصوں میں اس طرح کے کام جاری تھے لیکن ان کے پیچھے کیا مقاصد ہیں کیا تدابیر یں ہیں کسی کو معلوم نہیں ۔ گوادر کے شہری باڑ
لگانے اور دو طرفہ چیک پوسٹوں کے خلاف ہیں ۔
انکا کہنا ہے کہ اس اقدام سے انکو محدود کیا جا رہا ہے اپنے ہی زمین پر انہیں روکا جارہا ہے ، اس طرح تو انکی نقل و حرکت محدود ہو جائے گی ، اپنی ہی زمین پر وہ پردیسیوں کی طرح چیک پوسٹوں سے گزر گزر کر آئیں گے
کہا جا رہا ہے کہ
گوادر شہر کی سیکورٹی کیلئے باڑ لگانے کے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، باڑ لگانے کی تعمیر پشکان چیک پوسٹ سے شروع ہو کر جو مژانی سے ہوتے ہوئے وشیں ڈور تک کوسٹل ہائی وے گوادر جیونی زیرو پوائنٹ تک مکمل کیا جائیگا،باڑ کی تعمیر کیلئے گوادر شہر میں داخلے کیلئے دو انٹری پوائنٹ قائم کئیے جائیں گے۔ جس میں ایک کوسٹل ہائی وے جیونی زیرو پوائنٹ اور دوسرا پشکان روڈ آنکاڑہ پُل شامل ہیں،دونوں چیک پوسٹوں پر جدید قسم کے اسکیننگ مشین نصب کئیے جائیں گے، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ گوادر شہر کی (باڑ) لگانے کا منصوبہ شہری آزادی کے منافی عمل ہے۔اور اس کے علاوہ باڑ لگنے کے بعد گوادر کے قریبی علاقے نگور،جیوانی،اور پشکان اور دوسرے ملحقہ علاقے کے لوگ آزادانہ طریقے سے آمدورفت نہیں کر سکیں گے۔
اور خدشہ ہےکہ اس سے شہریوں کی آزادانہ نقل و عمل محدود ہوکر رہ جائے گی۔
اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس سب کے پیچھے وجہ کیا ہے ؟ کیا عوام کو ایک بار پھر بے خبر رکھا جائے گا کیا ؟
کیا یہ گوادر سر زمین کی پہلی ہمت ہے ؟ کیا ہمارے لوگ صرف اسی لیے ہیں کہ اپنی ہی سر زمین پہ مزدور کی حیثیت اختیار کریں اور سرمایہ دار ممالک ان پر حکمرانی کریں


