مولانا فضل الرحمٰن کی بنیادی شکایت
پی ڈی ایم اور جے یو آئی کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن نے نجی چینل کو انٹرویودیتے ہوئے اپنی ناراضگی کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ”شریف لوگوں“ کے مارچ میں دوبارہ الیکشن کرانے کے وعدے پر دھرنا ختم کیا تھا۔میں نے شریف لوگوں پر اعتبار کیا لیکن انہوں نے وعدے کی پاسداری نہیں کی۔مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لئے اعتبارکس پر کیا جائے؟جس کو آپ حکومت کہتے ہیں، ہم اسے حکومت نہیں سمجھتے، ہمارا کہنا ہے جو سیاسی قوت نہیں وہ سیاست میں نہ آئے، سیاست دانوں کو آپس میں چھوڑ دیں، ہمتنقید بھی کریں گے گفتگو بھی کریں گے،ہم آئینی راستہ اختیار کر رہے ہیں، ہم بندوق تو نہیں اٹھا رہے! عوام میں جا رہے ہیں۔پی ایم ڈی کے سربراہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:”ملک کے تمام معاملات میں اگر کوئی غیر متعلق شخصیت ہے تو وہ عمران خان ہیں“۔استعفوں کے حوالے سے پی ڈی ایم کی پارٹیوں کے درمیان مکالمہ جاری ہے اصولی اتفاق ہوچکا ہے کہ استعفے جمع کئے جائیں بڑے اعتماد کے ساتھ بات آگے بڑھ رہی ہے یقین ہے اتفاق رائے تک پہنچ جائیں گے،انہوں نے کہا یہ تجویز بھی زیر غورہے کہ ہم آئیں، دھرنا نہ دیں،اجتماع کریں اور استعفے ساتھ لائیں۔انہوں نے بتایا کہ جنوری کے آخر یا فروری کے شروع میں اسلام آباد آئیں گے۔کورونا کے بارے میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت خود تو اجتماعات سے خطاب کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے،مگر اپوزیشن کے خلاف اسے بڑھا چڑھا کرایک حربے کے طورپر استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے کہا 40سال اس ماحول میں گزارے ہیں،کونسی چیز ہے جو ہم سے چھپائی جا سکتی ہے؟2013کے انتخابات ہوئے تواس وقت کوئی سیاست دان جیل میں نہیں تھا، آر ٹی ایس سسٹم فیل نہیں ہوا تھا، 2018میں لوگوں کو جیل میں ڈال کر، نااہل قرار دے کر آپ نے ملک میں الیکشن کرائے۔
حکومت کی جانب سے میڈیا پر مولانا کے خلاف بھرپور مہم چلائی جا رہی ہے۔نیب نے کارروائی تیز کر دی ہے۔مختلف مقامات پر قیمتی جائیداد کو بینامی کہہ کر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ سب مولانا فضل الرحمٰن کی ملکیت ہے۔ بعض سنگین نوعیت کے الزامات بھی لگائے جارہے ہیں۔ان کی ٹائمنگ سے یہی تأثر ملتا ہے کہ حکومت دباؤ بڑھانا چاہتی ہے تاکہ پی ڈی ایم کے سخت لب و لہجے میں کچھ نرمی لائی جا سکے۔ادھر اپوزیشن کے ایم پی ایز اور ایم ایز سے رابطوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔وزراء میڈیا کے روبرو اعتراف کرنے لگے ہیں کہ مسلم لیگ نون کے متعدد اراکین حکومت سے رابطے میں ہیں، استعفیٰ نہیں دیں گے۔ ایسے اراکین کی تعداد 30سے زائد بتائی جاتی ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق گورنر پنجاب کو اس حوالے سے خصوصی ٹاسک سونپاگیا ہے۔ حالات نہ اتنے آسان ہیں جتنے حکومت بتا رہی ہے اور نہ ہی اتنے خراب ہیں کہ حکومت چند ہفتوں کی مہمان ہے۔اگر حکومت دو درجن ایم این ایز کو استعفے دینے سے روکنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس کے سیاسی معنے ہوں گے حکومت جلدی گھر نہیں جا رہی۔آئینی امورکے ماہرین ٹی وی ٹاک شوز میں کہہ رہے ہیں 150 استعفوں سے حکومت کی آئینی حیثیت متأثر نہیں ہوتی۔ اپوزیشن تا حال حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی پوزیشن میں نہیں۔استعفوں سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے نظر نہیں آتے۔گنتی کا کھیل ہے جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔سینیٹ میں واضح اکثریت ہونے کے باوجود ناکامی پرانی بات نہیں۔یہ حقیقت اپوزیشن کے علم میں ہے کہ صرف جلسے جلوس کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھا سکتے ہیں، حکومت کو گھرنہیں بھیج سکتے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایسی غیر یقینی صورت حال میں پی پی پی کی تجربہ کار اور سردو گرم چشیدہ قیادت کیا سندھ حکومت سے دست بردارہونے کا فیصلہ کر سکتی ہے؟ سیاست کا ادنیٰ طالبعلم بھی اس سوال کا جواب نفی میں دے گا۔
فرض کریں قومی اسمبلی میں بلحاظ اراکین دوسرے نمبرکی پارٹی اگر مستعفی نہیں ہوتی تو جے یو آئی اپنے اراکین کے بل پر حکومت کے لئے کوئی پریشانی پیدا نہیں کر سکتے ہیں۔البتہ مدرسے کے طالب علم بڑی تعداد میں سڑکوں اور دھرنے میں لا سکتے ہیں۔یہ کام ان سے پہلے مولانا طاہر القادری کر چکے ہیں۔کفن پوش رضاکار ان کے چاروں طرف کھڑے رہتے تھے، قبریں بھی کھود لی گئی تھیں۔ آج کل غیر ملک میں درس و تدریس میں مصروف ہیں، ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں قتل اور معذور ہونے والوں کو انصاف نہیں دلا سکے۔ان کے برابر میں کنٹیر پر کھڑے ہوکر بھائی کہلانے والے عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں مگر مقدمہ اپنی روایتی سست روی کاشکار ہے۔واقعے کو7سال ہونے کو ہیں۔ یہ جذباتی غلطی دہرانے سے بچا جائے۔ سیاست آئینی حدود سے جب بھی باہر نکلی ہے نقصان سیاست نے اٹھایا ہے۔سعودی عرب نے ایک بلین ڈالر قرض کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا تو حکومت شاہی خاندان کے قدموں نہیں گری، چین سے لے کر مطالبہ پورا کر دیا، ڈالر کا بحران نہیں پیداہوا۔ جو بائیڈن مزاجاً ایران نواز ہیں۔ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتے ہی سستاایرانی تیل مارکیٹ میں آجائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ عرب ممالک کو اسرائیل کا دوست بناکر پہلے ہی کمزور کر چکے ہیں۔ خطے کا جیو پولٹیکل منظر بدلتا نظر آرہا ہے۔ شریف لوگوں سے یہ امید وابستہ نہ کی جائے کہ وہ کوئی نیا وعدہ لے کر دھرنے والوں کے پاس آئیں گے۔جو لوگ شریف ہونے کے باوجود مارچ میں دوسرے انتخابات کا وعدہ پورا نہیں کر سکے وہ شائد آئندہ فروری کے اوائل میں ملنے بھی نہ آئیں۔ آخر شرافت کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن اپنی حکمت عملی کا از سرنو جائزہ لیں،یہ 40سال پہلے والا ماحول نہیں، جس کا حوالہ نجی چینل کے پروگرام میں دیا ہے۔40سال پہلے مولانا فضل الرحمٰن گدی نشین ہوئے تھے، چار دہائیاں گزر چکیں،اب اس گدی پر ان کا جواں سال بیٹا بیٹھنے کی آس لگائے ہوئے ہے۔


