آخری معرکہ جنوری/فروری میں ہوگا
11جماعتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا آخری جلسہ اگلے روز لاہور میں منعقد ہوا۔ جلسے کے لئے کرسیاں فراہم کرنے پر پابندی کی وجہ سے صرف 7ہزار کرسیاں خریدی جا سکیں، جبکہ 3ہزار مسلم لیگ نون کے رہنما نے فراہم کیں۔لیکن اسکے باوجود جلسہ گاہ میں حاضرین کی معقول تعداد موجود تھی۔قائدین اپنے اعلانات کے مطابق کوئی سرپرائز تو نہیں دے سکے البتہ جنوری کے آخر یا فروری کے اوائل میں استعفوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور حکومت کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا کہ ہوش کے ناخن لے، ایسا نہ ہو کہ وہ دن دیکھنے پڑیں جہاں اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ عوام ہوں۔دھاندلی کا نظام نہیں چلے گا۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جائے تو قومی یکجہتی برقرار نہیں رکھی جا سکتی، ہمیں انارکی کی طرف جانے سے پہلے ہی حالات کو سنبھال لینا چاہیئے۔ کشمیر پالیسی کے حوالے سے حکومت کی ناقص کارکردگی کو انہوں نے اجا گر کرتے ہوئے کہا: ”آج ہندوستان نے کشمیر ہڑپ کرلیا ہے،اب قوم کو کردار ادا کرنا ہوگا“۔انہوں پی ڈی ایم کی سربراہی اجلاس کے فیصلوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا: ”پارلیمنٹ کو خود مختاری دیناہوگی، پارلیمنٹ کو یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم کرنا ہوگا۔ایک آزاد عدلیہ کا تصور دیا جائے گا۔آزادانہ انتخاب کرائے جائیں گے۔ ووٹ کا تقدس بحال کریں گے۔صوبوں کے حقوق اور 18ویں ترمیم کا تحفظ کیا جائے گا۔ناجائز حکومت کو نہیں چلنے دیں گے۔لانگ مارچ میں پوری قوم شرکت کرے گی۔موجودہ پارلیمنٹ پر ہم نہ اعتبار کرتے ہیں اور نہ ہی اسے چلنے دیں گے۔پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا: آج ملک ایک بار پھر اہم دوراہے پرکھڑا ہے، آج پاکستان میں تاریخی مہنگائی، تاریخی غربت اور تاریخی بیروزگاری ہے۔کسانوں کو حق مانگنے پر شہید کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہااب ڈائیلاگ شائیلاگ کا وقت گزر چکا ہے،اب لانگ مارچ ہوگا۔عوام کا فیصلہ کٹھ پتلی حکومت کو ماننا ہوگا۔مسلم لیگ نون کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے لاہوریوں سے پنجابی میں کہا”اللہ دی قسم اے،تسی مینوں خوش کر دتا اے“، لاہورسندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو خوش آمدید کہتا ہے،اب لاہور بڑے بھائی کی بجائے سگے بھائی کا کردار ادا کرے گااور تمام صوبوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گا۔پختونخوا عوامی ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہ:”طعنہ نہیں، گلہ ہے افغان وطن پر قبضے کے لئے لاہوریوں نے بھی انگریز کا ساتھ دیا، ہم نے اپنی بساط کے مطابق سامراج کا ہر گلی، ہر ندی، اور ہر پہاڑ پرمقابلہ کیا۔آپ نے نیا آئین نہیں بننے دیا، ہماری مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتارہا، خان عبدالغفار خان نے قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کروفاداری کا حلف اٹھایا لیکن ہمارے اس حلف کی کوئی قدر نہیں کی گئی، اسمبلی توڑ دی گئی، پشتونوں کو خون میں نہلا دیا گیا، ان کا قصور کیا تھا؟بنگلہ دیش کی اکثریت کو کم کرنے کے لئے ”ون یونٹ“ کا ڈرامہ رچایا گیا۔ سندھی، بلوچ اور پشتون آپ کے پاس آئے ہیں، محرومیوں کے ازالے کاوعدہ کرنا ہوگا۔ پی ڈی ایم موج مستی کے لئے نہیں بنائی گئی۔ ہم صرف اپنا حق مانگتے ہیں،ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں ایک جمہوری اسلامی ملک کی تشکیل میں آپ کے ساتھ ہیں،ہم ایسا پاکستان تشکیل دینا چاہتے ہیں جہاں کوئی انسان دوسرے انسان کااور کوئی قوم دوسری قوم پر ظلم نہ کرے۔ہم خیرات اور زکوٰۃ مانگنے نہیں آئے، ہم صرف یہ بتانے آئے ہیں کی جو نعمتیں اللہ نے ہماری زمین پر پیدا کی ہیں ان پر ہمارے بچوں کا پہلا حق تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں لاہوریوں کو بتایا کہ اگر۔۔۔”وہ“ نہیں مانتے تو پھر یہاں پر ترکی کی طرز پر انقلاب کی بات پکی ہو گئی، اس لئے کہ حالات انقلاب کے لئے پکے ہیں۔پی ڈی ایم کی قیادت نے مینار پاکستان پر لاہوریوں کو گواہ کرکے اپنی شکایات اور ان کا حل بتا دیا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے اس صورت حال کو انارکی کی طرف جانا کہا ہے اور بچانے کی اپیل کی ہے۔ حکومتی ترجمان ابھی عمر کے اس حصے میں ہیں،ان کے کھیلنے کودنے کے دن ہیں، جو چاہے کہتے رہیں،؛لیکن وزیر داخلہ شیخ رشید احمدعمر کے آخری حصے میں ہیں، سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں، یہ ان کی 15ویں اورآخری وزارت ہے، کورونا کو بھگت چکے ہیں، موت کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے،سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ملک اگر انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے تو اپنا کردار ادا کریں، ملک کو انارکی سے بچائیں۔اسلام آباد میں وہ سب کچھ نہیں ہونا چاہیئے جو 2014میں ہو چکا ہے۔ کوشش کی جائے کہ گفت و شنید کے ذریعے کوئی درمیانی راہ نکالی جائے۔دوسری طرف پی ڈی ایم کی قیادت بھی جہاں دیدہ ہے،سیاسی رموزسے واقف ہے، گزشتہ چار دہائیوں میں ہر قسم کے حالات اور تجربات سے گزری ہے۔ 2014کے مناظر اسے بھی یادہوں گے۔معاملات کو تصادم کی طرف نہ لے جائیں۔ابھی تک حکومت کا رویہ جارحانہ نہیں،ملتان والی غلطی کا اعادہ لاہور میں نہیں کیا گیا، کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی گئی۔مقدمات کے اندراج سے آگے کوئی اقدام نہیں کیا، صرف ایک گرفتاری ہوئی، اسے بھی ضمانت پر رہائی مل گئی۔لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے،مولانا فضل الرحمٰن اگر مستقبل قریب میں انارکی دیکھ رہے ہیں تو امن امان کی صورت حال کو خرابی سے بچانے کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ واضح رہے جب ملک میں انارکی،افراتفری اور انتشارکی کیفیت نظر آئے گی تو حکومت اپنے آئینی اختیارات استعمال کرے گی۔زیادہ مناسب ہے کہ سارا کام۔۔۔ ”ان“ پر نہ چھوڑا جائے، سیاستدان معاملات کو ایسے بگاڑ تک نہ جانے دیں کہ ”ان“ کی مداخلت ناگزیر ہوجائے۔اور کوئی نیا عبدالوحید کاکڑرنگین چشمہ پہنے، بغل میں ”اسٹک“ دبائے، ڈکٹیشن دے رہا ہو۔سیاستدان ایک بار پھر کسی نئے ”معین قریشی“ کو وزیر اعظم بنانے پر اتفاق کواپنی بہت بڑی کامیابی سمجھیں۔ابھی وقت ہے، سوچا جا سکتا ہے، سوچا جائے۔سیاست بند گلی میں جانے کی اجازت نہیں دیتی۔ پاکستان کو ترکی جیسا ملک نہ سمجھا جائے،یہاں کے عوام کی سائیکی مختلف ہے۔


