سینیٹ الیکشن فروری میں کرانے پر غور
حکومت نے سینیٹ الیکشن مارچ کی بجائے فروری میں کرانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔اس حوالے سے کابینہ کیاجلاس میں متعدد آپشنز پر غورکیا گیا کہ آئین اور قانون کی روشنی میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ سینیٹ انتخابات ”شو آف ہینڈ“ کے ذرایعے ممکن ہو جائیں۔ آئین کے آرٹیکل186 کے تحت سپریم کورٹ سے رہنمائی حاصل کے بارے میں بھی سوچا گیا۔اجلاس میں وزیراعظم نے کہاکہ انتخابات کے لئے قانونی اصلاحات کا صرف ایک مقصد ہے کہ پورا عمل شفاف بنایاجائے۔وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پریس کانفرنس میں کہاہے کہ سینیٹ انتخابات کے الیکشن میں ہر بار یہ الزام لگتا ہے کہ ”ہارس ٹریڈنگ“ ہوئی ہے، خرید و فروخت ہوئی ہے۔حکومت چاہتی ہے یہ سلسلہ ختم ہو، شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔سینیٹ میں وہی لوگ آئیں جوسیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کوتوقع ہے کہ سپریم کورٹ سے اس ضمن میں مناسب رہنمائی انتخابات سے بہت پہلے مل جائے گی۔اگراسمبلی کااجلاس اس سے پہلے ہوا تو وہاں سے بل منظور کرانے کی کوشش کریں گے،تمام سیاسی پارٹیاں شفاف انتخابات کی حامی ہیں، سب پارٹیوں کے مفاد میں ہے۔ ماضی میں جو کچھ ہوتارہاہے کسی سے چھپا ہوانہیں، سب جانتے ہیں۔ لیکن ابھی تک مسلم لیگ نون کے ترجمان ٹی وی ٹاک شوز میں شو آف ہینڈ کے حامی نظر نہیں آتے خفیہ بیلٹ والی شق برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ حکومت نے اپنا عندیہ دے دیا ہے،اپوزیشن پارٹیاں تعاون کریں تو شفاف انتخابات کے لئے انتخابی قوانین میں پارلیمنٹ مناسب اصلاحات بآسانی کر سکتی ہے۔لیکن اپوزیشن میں شامل پارٹیوں کی قیادت موروثی ہے۔ موروثی قیادت کی نفسیات بادشاہوں جیسی ہے، وہ یہ حق پارلیمنٹ کو منتقل کرنا نہیں چاہتی۔
یورپی ممالک نے طویل جدوجہد کے بعد موروثی قیادت سے جان چھڑا لی ہے، امریکہ میں دوبار سے زیادہ کوئی صدر نہیں بن سکتا۔ایک خاند ان باپ بیٹے کی شکل میں 16سال حکمرانی کر سکتا ہے،اس کے بعد عوام نیا چہرہ لے آتے ہیں، موروثی قیادت کا راستہ روک دیا گیا ہے۔البتہ انتخابی عمل ابھی تک اتنا پیچیدہ ہے کہ سرمائے کی بالادستی تاحال برقرار ہے۔اسے سادہ اور سستا بنانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں سیاسی سفر یورپ اور امریکہ سے ہرلحاظ سے مختلف رہا ہے۔اس لئے وہاں کی جمہوری مثالیں من و عن یہا ں چسپاں کرنا درست نہیں۔پاکستان کویہاں کی نفسیات اور سیاسی رویوں کے مطابق اپناجمہوری راستہ خود وضع کرنا ہوگا۔ یہ ایک تاریخ سچائی ہے کہ پاکستان کے انتخابات روزاول سے جاگیرداروں اور ان کے بطن سے پیدا ہونے والے سرمایہ داروں اور گما شتہ سرمایہ داروں کے مفادات کے تابع رہے۔وہ خود پارلیمنٹ کاحصہ بنے یا ان کے ایجنٹ ایوان میں رونق افروزہوئے۔دوسرے لفظوں میں دھاندلی زدہ رہے۔دسمبر1970کے انتخابات کے بارے میں بعض حلقوں کاخیال ہے کہ ”شفاف“ ہوئے تھے، اگر اسے درست مان لیا جائے تو ان عوامل کا سنجیدگی سے کھوج لگانا ہوگاکہ انتخابات کے ایک سال تک اقتدار منتخب نمائندوں کو کیوں منتقل نہیں ہوا اور16دسمبر 1971کو پاکستان دو لخت کیوں ہوا؟ابھی تک ان دو سوالوں کا حقیقت پر مبنی جواب سامنے نہیں آیا،آنا چاہیئے تھا۔انہیں دیکھے بغیر ایک مستحکم ریاست تشکیل دینے کیلئے غلطیوں سے پاک سیاسی و جمہوری راستہ وضع کرنا ممکن نہیں۔غلطیوں کا تعین کرنے کا اختیار غلطیوں کے مرتکب فریقین کو نہیں دیاجا سکتا۔ملک دولخت از خود نہیں ہوا،اس جرم میں سیاست دان، عدلیہ، اور ملٹری اور سول بیوروکریسی سب شامل رہے۔اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ تینوں فریق اپنے اندر سے باصلاحیت افراد کو یہ ذمہ داری سونپیں، ایک سوالنامہ تیار کریں، جوممکنہ حد تک اپنا غیر جانبدارانہ محاسبہ کریں اور محاسبے سے حاصل ہونے والے جوابات عوام کے سامنے رکھ دیئے جائیں۔ان جوابات پرریفرنڈم کرا لیاجائے کہ عوام اسے درست مانتے ہیں یا نہیں؟ آئندہ کا لائحہ عمل ریفرنڈم کی روشنی میں پارلیمنٹ طے کرے۔
سینیٹ الیکشن فروری میں کرانے پر حکومتی سوچ بچار سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ حکومت پی ڈی ایم سے مذاکرات کا ایک باوقار راستہ نکالنا چاہتی ہے۔اب گیند اپوزیشن کے کورٹ میں ہے، جیسا جواب دے گی اسی کے مطابق حکومتی ردعمل سامنے آئے گا۔اپوزیشن پارلیمنٹ میں قانون سازی پر رضامند ہوگی تو ملک کسی انارکی کا شکار ہوئے بغیر عوامی مشکلات کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، بصورت دیگر4 201کی تاریخ دہرائی جائے گی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی نوبت نہ آئے، لیکن یہ خدشہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ حالات ماضی کی نسبت زیادہ خراب ہو جائیں۔حالات کے خراب ہونے اور کسی ناقابل واپسی مقام تک لے جانے کی ذمہ داری دونوں فریق کو قبول کرنا ہوگی۔ تایخ اپنا فیصلہ سنانے میں آزاد ہے، کسی فریق کے تابع نہیں۔کل کا مؤرخ ضرور پوچھے گا اس غلطی سے بچنے کی سنجیدہ کوشش کیوں کی؟دونوں فریق یاد رکھیں معروضی حالات سے آنکھیں بند رکھنے کا خمیازہ لازماً بھگتنا ہوگا۔پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ نون کے صدر اورقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے:”استعفے ایٹم بم ہیں، ان کے استعمال کے لئے مل کر لائحہ عمل بنائیں گے“۔ اس کے سیاسی معنے یہی ہوتے ہیں کہ استعمال ہو گئے تو سارے سیاسی اثاثے جل کرراکھ ہو جائیں گے، کچھ نہیں بچے گا۔دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شہباز شریف نے بلاول بھٹو کو مشورہ دیاہے کہ ہارڈ لائن کی بجائے حکومت سے مذاکرات کی راہ نکالی جائے۔ابھی6ہفتے سوچ بچار کی مہلت باقی ہے، سیاست امکانات کا نام ہے۔اسٹبلشمنٹ ابھی خاموش ہے،پی ڈی ایم کی نظریں ادھر ہی لگی ہیں۔حکومت نے فروری میں سینیٹ الیکشن کی بحث چھیڑ کر سیاست کو بند گلی میں جانے سے روکنے کی کوشش ضرور کی ہے۔


