کورونا؛برطانیہ کیلئے پروازیں بند
عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا کی نئی قسم 70فیصد قابل انتقال ہے یعنی صحت انسانوں کوپہلے کی نسبت زیادہ متأثر کرسکتی ہے۔ کورونا کی دوسری لہر کے نتیجے میں گزشتہ7دنوں میں ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 17لاکھ سے زائد ہو گئی جبکہ متأثرین کی تعداد 7کروڑ 72لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔وباء کی نئی قسم جنوبی افریقہ، ڈنمارک، آسٹریلیا،نیدر لینڈ اوربرطانیہ میں سامنے آنے پر متعددیورپی ملکوں نے برطانیہ کے لئے پروازیں اور ٹرین سروس بند کر دی ہے۔اٹلی میں گھروں سے نکلنے اور سفرپرپابندی لگا دی گئی ہے۔امریکہ میں 24گھنٹوں میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد2600رہی۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ اگر کورونا ایک بار بے قابو ہوجائے تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ملک بے بس ہو جاتے ہیں۔ اللہ کااحسان ہے کہ پاکستان میں ہلاکتوں کی رفتار اور تعداد کم ہے۔لیکن رفتار کی اس کمی کو ہرقسم کی بد احتیاطی کے لئے لائسنس سمجھ لیا جائے۔ مارکیٹ اور بازاروں میں جاتے وقت 4/3روپے کا سستا سا ماسک پہن کر جانا کوئی مشکل کام نہیں لیکن یہ خاندان کو کورونا سے محفوظ رکھنے میں مددگار ہے۔ڈاکٹروں اور طبی عملے کے علاوہ سیاست دان بھی کورونا کے ہاتھوں جان کی بازی ہارنے والوں میں شامل ہیں۔اس کے باوجود پاکستانی لاپروائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔سب جانتے ہیں کہ ہمارے اسپتالوں میں عام بیماریوں کے علاج معالجے کی سہولتیں دستیاب نہیں۔انہیں سوچنا چاہیئے کہ اپنی بے احتیاطی کے باعث اگر کورونا کا شکار ہوئے تو خاندان کتنی بڑی مصیبت میں آجائے گا۔خود پر اور اپنے خاندان پر ترس کھائیں، احتیاط کی جائے۔ کوروناایک وباء ہے اسے وباء سمجھا جائے۔پاکستان (موجودہ اور سابق)حکمرانوں کی غلطیوں کے باعث عوام کی زندگی پہلے ہی مہنگائی، غربت، جہالت، اور بیروزگاری جیسی مشکلات سے دوچار ہیں۔مزید غلطیوں کی گنجائش نہیں۔حکومت اور اپوزیشن عوامی مسائل حل کرنے کے لئے مشاورت کے لئے تیار نہیں۔اپوزیشن حکومت کو گھر بھیجنے سے کم پر راضی نہیں جبکہ حکومت واضح الفاظ میں کہہ رہی ہے کہ تمہارے کہنے سے گھر نہیں جائے گی، عدم اعتماد کی تحریک لاؤ۔اپوزیشن جانتی ہے کہ تحریک عدم اعتماد لانا اس کے بس سے باہر ہے۔اسی مجبوری کے باعث استعفوں کی حکمت عملی اپنائی گئی لیکن یہ مرحلہ ہنوز دور ہے۔31دسمبر تک اراکین اسمبلی استعفے اپنی قیادت کے پاس جمع کرائیں گے۔پی ڈی ایم نے حکومت کو گھرجانے کے لئے 31جنوری تک کی مہلت دی ہے۔اگر حکومت 31جنوری تک گھر جانے کارضاکارانہ فیصلہ کر لیتی ہے،جس کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں،تو کوئی تحریک نہیں چلائی جائے گی،اپوزیشن یہ بھی نہیں بتاتی کہ اقتدار کس کو منتقل ہوگا اور اس کاطریقہ کار کیاہوگا۔ شاید بہت عجلت میں سب کچھ کر رہی ہے، اسے یقین ہے (یا دلایا گیا ہے کہ حکومت خودہی گھر چلی جائے گی) ورنہ یکم فروری کو پی ڈی ایم کی قیادت کااجلاس ہوگا اور وہ اجلاس نئی حکمت عملی طے کرے گا،اس حکمت عملی کے اعلان کے ساتھ ہی حکومت گھر چلی جائے گی۔۔۔۔۔اسی قسم کی باتیں 2019کے لانگ مارچ سے پہلے اور لانگ مارچ کے دوران دہرائی جاتی رہیں، مگرکسی گمنام فریق سے آئندہ مارچ(2020)میں حکومتی مارچ کاوعدہ لے کر مولانا فضل الرحمٰن دھرنا ختم کر کے راضی خوشی واپس لوٹ گئے تھے۔آج حکومت بظاہر مولانا سے زیادہ یقین رکھتی ہے کہ یہی سب کچھ2021میں بھی وقوع پذیر ہوگا۔سمجھدار لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی اپنے کتوں کے ساتھ کھیل کود والی تصویر کاوائرل ہونا اسی تصور کی غمازی کرتا ہے۔ مولانا ملک کے معرو ف عالم گھرانے کے چشم و چراغ ہیں،انہیں یقیناعلم ہوگا کہ سورۃ الصّف آیت2میں اللہ نے ایمان والوں سے پوچھا ہے: ”تم وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے؟“۔کوئی پاکستانی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ مولانا اپنے مجوّزہ دھرنے کے انجام سے بے خبر ہیں۔مولانا خود کہتے ہیں کہ انہوں نے چار دہائیاں ”ان“ کے ساتھ گزاری ہیں۔عوام جانتے ہیں کہ ”ان“ سے مراد جدید سیاسی لغت میں ”سلیکٹرز“ ہیں۔ کیا مولانا اتنے سادہ ہیں کہ جن سلیکٹرز کی سیاسی مداخلت کو وہ سخت ناپسند کرتے ہیں انہی کے دروازے پر کھڑے ہوکر ”سیاسی مداخلت“ کی صدا بلند کریں گے۔ اگرایسا ہوا تو ان کے پیروکاروں کو قول و فعل کے اس کھلے تضاد پر دلی دکھ ہوگا۔ اپنے سیاسی تجربے کی روشنی میں انہیں علم ہوگا کہ پی ڈی ایم کی دیگر10سیاسی جماعتیں حکومت کو گھر بھیجنے کی موجودہ تحریک میں کہاں تک جے یو آئی کا ساتھ دیں گی۔ان سب کی نفسیات جے یو آئی سے مختلف ہے، کسی کے پاس اتنی منظم، نظریاتی طور پر مضبوط،نوجوان افرادی قوت نہیں جتنی کہ جے یو آئی کے پاس مدارس کے طالب علموں کی صورت میں موجود ہے۔انہیں ملنے والی پی ڈی ایم کی سربراہی بھی اسی افرادی قوت کی مرہون منت ہے۔ ایسے حالات میں مولانا کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے،مدارس کے طلباء کو کامیابی کا یقین دلا کر اسلام آباد لانا ایک بار ناکام رہا، دوسری بار بھی اگر۔۔۔ کسی موسمیاتی یا دوسری وجہ سے ناکامی پر منتج ہوا تو مدارس کے بچوں کو گراں گزرے گا،ابھی عوام اتنے جوشیلے دکھائی نہیں دیتے کہ یہ کہا جا سکے:”مارچ ابھی گوجرانوالہ نہیں پہنچے گا،حکومت دم دبا کر بھاگ جائے گی!“تھوڑا انتظار کیا جائے، حکومت غلطیاں کرنے کی عادی ہے، مزید غلطیاں ضرور کرے گی،اور جب کسی حکومت کی غلطیوں کا بوجھ ناقابل برداشت حدوں کو چھونے لگے تولانے والوں سمیت سب ہی سوچنے لگتے ہیں کہ جیسے بھی ممکن ہو اس سے جان چھڑائی جائے۔خود حکمت کو بھی اپنی ناقص کارکردگی کا احساس ہوجاتا ہے۔اندر سے بھی چہ می گوئیاں شروع ہوجاتی ہیں، عوام کا لہجہ بھی تلخ سے تلخ تر ہوتا محسوس ہونے لگتا ہے۔ایک اور ناکامی کا داغ اپنے دامن پر لگانے سے بہتر ہے تھوڑا انتظار کر لیاجائے۔پی ڈی ایم خود بھی موجودہ حکومت کی نااہلی کے نعرے کے ساتھ باہر نکلی ہے۔


