وزیر اعظم کا تعمیرات کے شعبے کے لیے پیکج کا اعلان
ا سلام آبادLوزیر اعظم عمران خان نے تعمیرات کے شعبے کے لیے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹے گھروں پر سبسڈی دی جائے گی اور اگلے پانچ سال تک 5 مرلے گھر پر بینک 5 فیصد اور 10 مرلے کے گھر پر 7فیصد سے زیادہ شرح سود نہیں دینا ہو گا۔ تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنیوالوں سے ذرائع آمدن نہیں پوچھیں گے۔ 2020 کے اختتام پر اسلام آباد میں تعمیرات کے شعبے کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے تعمیرات کے شعبے میں جو مراعات دی تھیں تو مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ 186ارب کے منصوبے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے پورٹل پر رجسٹر ہو چکے ہیں جبکہ ڈرافٹ کی شکل میں 116 ارب کے منصوبے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اس کے علاوہ 136 ارب کے منصوبوں کی منظوری کا عمل چل رہا ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں پنجاب سے جو معاشی سرگرمی جنم لے گی وہ تقریباً 1500ارب کی سرگرمی ہو گی جس سے پنجاب میں ڈھائی لاکھ نوکریاں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی سمیت دیگر جگہ بھی منصوبے شروع ہوئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے کم مالیت کے گھروں کے سلسلے میں ہمیں سب سے بڑی کامیابی یہ حاصل ہوئی ف’فور کلوڑر لا’ منظور ہوا ہے، یہ بدقسمتی سے بہت دیر سے منظور ہوا جس کی وجہ سے ہمیں دیر ہوئی لیکن اب منظور ہو کر عدالت سے پاس ہو چکا ہے اور اس کی وجہ پاکستان میں پہلی مرتبہ کم مالیت کے گھروں میں بھی بینک فنانس کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بینکوں نے ہم سے اور اسٹیٹ بینک سے وعدہ کیا ہے کہ دسمبر 2021 تک 378 ارب روپے تعمیرات کی سرگرمی کے لیے الگ رکھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ کم لاگت کے گھر میں شرح سود پر جو سبسڈی دی ہے اس کے تحت اگلے پانچ سال تک 5 مرلے کے گھر پر شرح سود 5فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی جبکہ 10 مرلے کے گھر پر 7فیصد سے زیادہ شرح سود نہیں ہو گی زیراعظم نے کہا کہ کورونا کے باوجود ہم نے شعبہ تعمیرات کو کھولنے کا فیصلہ کیا۔ کنسٹرکشن سیکٹر کو کھولنے کی وجہ سے معیشت کو سہارہ ملا۔ 1960 کے بعد پہلی حکومت ہے جس نے انڈسٹری پر زیادہ توجہ دی۔ کنسٹرکشن سیکٹر میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔


