افغانستان اور ایران کے ساتھ باڑ لگا لیا ہے، سیف سٹی کوئٹہ اور گوادر سمارٹ سٹی بننے جا رہا ہے، جام کمال
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن اور ترقی و خوشحالی دشمن عناصرآسان ٹارگٹ کو نشانہ بناکر اپنے عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں، وفاق اور صوبائی حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہے، ماضی کے حکمرانوں نے وعدے تو کئے لیکن عملی اقدامات نہیں اٹھائے، صوبے کے حالات سو فیصد درست نہیں البتہ ماضی سے کئی گنا پرامن ہے، ہم زبانی جمع خرچ پر یقین نہیں رکھتے، ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنا سکے اگر ہم استعفیٰ دے تو کون اس کی گارنٹی دے سکتا ہے کہ آئندہ اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہوں گے اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ہاں اس بات کی گارنٹی ضرور دی جا سکتی ہے کہ حکومتیں اپنی سنجیدگی اور عمل سے دکھائیں گی اور وہ نظر آئے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے دنیا ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ اللہ تعالی کا بڑا کرم ہے کہ مچھ واقعہ کے حوالے سے معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوا تاہم تھوڑا بہت وقت ضرور لگا لیکن پہلے دن سے ہی سب کے ساتھ انگیجمنٹ تھی انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کے ساتھ جب بھی کوئی واقعہ ہوا ہے ماضی میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے وعدے تو بڑے کئے لیکن کبھی اس پر کام نہیں ہوا کہ وہ کیا چیزیں جنہیں درست کرنے کی ضرورت ہے پہلی دفعہ ہزارہ برادری کے ساتھ تحریری معاہدہ ہوا ہے دھرنے کے تمام مطالبات بنیادی تھے، انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے تو اس میں ایموشنل لیول بہت ہائی ہوتا ہے اور ہونے بھی چاہیے، مطالبات میں حکومت بلوچستان سے استعفیٰ اور آئی جی ایف سی کو ہٹانا بھی شامل تھا لیکن جب لوگ سنجیدگی کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو ماحول ایسا ہوتا ہے جہاں لوگ اپنے احساس کو جذبات کے ساتھ ظاہر کرتا ہے لیکن سب کو پتہ ہے میں کل بھی کہا تھا کہ اگر ہم استعفیٰ دے تو کون اس کی گارنٹی دے سکتا ہے کہ آئندہ اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہوں گے اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ہاں اس بات کی گارنٹی ضرور دی جا سکتی ہے کہ حکومتیں اپنی سنجیدگی اور عمل سے دکھائیں گی اور وہ نظر آئے گا تو اصل چیز ہے جس کی طرف ہم کوشش کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اگر 8 سے 10 سال کی لا اینڈ آرڈر کی صورت حال دیکھا جائے تو حالات قدرے خراب تھے شہر ہو یا دیہی علاقے کہیں نا کہیں ہر جگہ واقعات ہو رہے تھے جو ہی معاملات کو سنجیدہ لیا تو مسائل میں آہستہ آہستہ کمی آنا شروع ہو گئی یہ وہی کوئٹہ تھا جہاں لوگ گھوم نہیں سکتے تھے دیگر شہروں کی بھی یہی حالت تھی میں یہ نہیں کہتا کہ 100 فیصد حالات ٹھیک ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ باڑ لگا لیا گیا ہے بلکہ شہر کو محفوظ بنانے کیلئے سیف سٹی کوئٹہ، گوادر سمارٹ سٹی بننے جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ اب جو عناصر جو پاکستان، بلوچستان کے امن اور ترقی کے خلاف ہے ان کی کوشش ہے کہ جہاں سافٹ ٹارگٹ ملے تو اپنے عزائم دکھائیں 2020 کا پورا سال گزرا ہے جس میں ہزارہ برادری کے ساتھ ایک واقعہ نہیں ہوا ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کیلئے گزشتہ دو سے ڈھائی سالوں میں بہت سے مخصوص آپریشنز کئے گئے ہیں جن میں کوئٹہ، مستونگ، مچھ و دیگر علاقے شامل ہیں بہت سارے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے سیکورٹی سیل کے تحت کوشش کی جا رہی ہے کہ اس میں مزید بہتری لائی جائے ہم صرف زبانی جمع خرچ نہیں کریں گے وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی ایک پیج پر ہے میں یہ نہیں کہتا کہ ماضی کی حکومتوں نے زبانی جمع خرچ کی ہے لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ ماضی میں 10 وعدے ہوئے لیکن معاملات جوں کے توں رہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ ہم عملی طور پر اپنے وعدوں کو جامہ پہنا سکے انہوں نے کہا کہ مچھ واقعہ بڑا دردناک ہے اگر یہ واقعہ ماضی میں ہوتا تو یہ نا خان صاحب کی شکل پسند کرتے نہ ہی جام کمال کا شکل دیکھتے اور نہ دھرنے میں کسی کو آنے کی اجازت دیتے ہم نے ماضی میں یہ دیکھا ہے۔


