شاہدخاقان عباسی کی لندن پیغام رسانی

میڈیا اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعظم اور نون لیگ کے تاحیات قائد نواز شریف کے قابل اعتماد ساتھی شاہد خاقان عباسی نے امریکہ میں زیر علاج اپنی علیل بہن کی مزاج پرسی کے بعدپاکستان واپس آتے ہوئے لندن کا راستہ اختیارکیا اور اپنے قائد سے ملاقات کی۔ بظاہر اس ملاقات کا مقصد نوازشریف کی والدہ کے انتقال کے بعد فاتحہ خوانی تھا لیکن واقفان حال خصوصاًفنکشنل لیگ کے رہنما محمد علی درانی کا خیال ہے کہ یہ ملاقات ٹریک ٹو مذاکرات کی ایک کڑی ہے اور نون لیگ کی سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے پر آمادگی بھی اسی خیال کو تقویت دیتی ہے کہ خاموشی سے پس پردہ کہانی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ اگر یہ سب کچھ سچ ہے اور اس کے سچ نہ ہونے کی کوئی وجہ بھی نہیں۔ اس لئے کہ ماضی میں ایک سزا یافتہ شخص جیل سے اسپتال اور پھر اسپتال سے بغرض علاج عرب ملک کے حکمرانوں کے نجی طیارے میں بیٹھ کر لندن پہنچ جاتا ہے،اور تمام پیچیدہ بیماریاں لندن پہنچتے ہی خود بخود غائب ہوجاتی ہیں، لندن کے کسی اسپتال میں اسے ایک منٹ کے لئے بھی داخل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہ تماشہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ابھی ٹریک ٹو مذاکرات کے دوسرے سے پر وہی شخص پیغام وصول کرتا محسوس ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ملکی سیاست کی اخلاقیات کیا اپنا وجود کھو بیٹھی ہیں؟پس پردہ ڈوریاں ہلانے کے کیا معنے ہیں؟عام آدمی اس تماشے سے کیا سمجھے؟پارلیمنٹ، سینیٹ کیا نمائشی ادارے ہیں؟حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں؟ حکومت میں ہونا یا اپوزیشن کہلانا ایک ایسے ڈرامے کے کردار ہیں پردہ سیمیں پر زندہ کرداروں روپ میں دکھایاجاتا ہے مگریہ محض سائے ہیں،ان کے اپنے کوئی جذبات نہیں۔کوئی احساسات نہیں۔
عام آدمی سے سچ بولا جائے،زندہ قومیں سچ سننا چاہتی ہیں، مشکلات سے قومیں نہیں مرا کرتیں، جھوٹ سے پہنچنے والا صدمہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دباہوا ہے، یہ سچ ہے۔سینکڑوں ارب روپے عوام کو اس بجلی کا گردشی قرضہ ادا کرنا پڑتا ہے جو اس کی دہلیز تک پہنچتی ہی نہیں۔اول تو وہ بجلی،بجلی گھر پیدا ہی نہیں کرتے، پیدا کریں تو73سال گزر جانے کے باوجود یہ صارف تک پہنچانے کے لئے مناسب ترسیلاتی بندوبست ہی نہیں۔ہر پندرہ دن بعد پیٹرول اور ڈیزل وغیرہ کی شرح میں اضافہ کردیاجاتا ہے کہ آئی ایم ایف کا تقاضہ ہے۔قرضہ لیتے وقت پاکستان کے حکمرانوں نے تسلیم کیا تھا کہ قیمتیں بڑھائی جائیں گی۔عوام کی تنخواہیں منجمد رہیں گی۔پنشن میں اضافہ نہیں کریں گے۔ایسی شرائط مانتے وقت کسی وزیر، کسی مشیر نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھتے ہی مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ٹرانسپورٹرز کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔اشیاء کی نقل و حمل کے کرایہ جات بڑھ جاتے ہیں۔ دکاندار یہ اضافہ گاہکوں کی جانب سرکا دیتے ہیں، گلہ غریب صارف کا کٹتا ہے۔اس کا حال پوچھنے والا کوئی نہیں۔حکمراں اور اپوزیشن سیاست کے نام پر وہ کھیل کھیل رہے ہیں جس کے لئے پارلیمنٹ کے دروازے بند ہیں مگر ٹریک ٹو پیغام رسانی جاری ہے۔قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف سے جیل میں مذاکرات کئے جاتے ہیں پھر پی ڈی ایم کے سربراہ سے وہی پیغام بر ملاقات کرتے ہیں،اور چند دنوں بعد عام آدمی کو بتایا جاتاہے کہ گھبراؤ نہیں بیرون ملک مقیم بااثرسزا یافتہ زیر علاج فرد تک پیغام پہنچانے کا بندوبست ہوگیا ہے، جلد ہی ملکی میں دیکھا جانے والاسیاسی بھونچال تھم جائے گا۔گویا سب کچھ مصنوعی ہے، ریموٹ کنٹرول ہے، ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ، دیتے ہیں دھوکایہ بازی گر کھلا۔ پاکستان میں جسے پانی سمجھ رہے ہو، نظرکادھوکا ہے، اک سراب ہے۔ سچ کی تلاش میں ایک پیغامبر بیرونملک گیا ہوا ہے، جیسے ہ واپس پہنچے گا سارا بھید کھل جائے گا۔بے صبری نہ کی جائے، با آسانی چند دن انتظار کیا جا سکتا ہے، فدویانہ انداز میں کیاجا ئے۔
کتنا جھوٹ کیوں نہ بولا جائے، سچ کو چھپانا ممکن نہیں، اب تک جتنا جھوٹ بول لیا، اسے کافی سمجھو، مزید جھوٹ کی ضد نہ کرو۔ عام آدمی سچ سے واقف ہے، اسی لئے تمام تماشے برداشت کرتا رہا ہے۔لیکن ہر چیز کی حد ہوتی ہے، اس جھوٹ کی بھی ایک حد ہے، اسے پار نہ کیا جائے۔عوام کو بتایا جائے یہ ٹریک ٹو کون سے مذاکرات ہو رہے ہیں؟ کون کر رہا ہے؟ کس اختیار کے تحت کئے جارہے ہیں؟پارلیمنٹ کیوں ویران ہے؟جب پارلیمنٹ ویران ہو جائے تو المیہ جنم لیتا ہے، کوئی سانحہ نمودار ہوتاہے۔پاکستان کے عوام سچ سننے کے متمنی ہیں، ان سے سچ بولا جائے۔ انہیں بتایا جائے پس پردہ کھیل کھیلنے کی ضرورت کیو ں پیش آئی؟عوام سے سچ چھپایا گیا تو یاد رہے کہ تاریخ اس کوشش کو ناکام بنا دے گی۔تاریخی صداقتیں نہ ماضی میں چھاپائی جاسکی ہیں نہ مستقبل میں ایسا ممکن ہو سکتاہے!امریکی تھنک ٹینک 159سال بعد اس کوشش میں ناکام ہوئے، سچ ببانگ دہل للکار رہا ہے، یہ جمہوریت جھوٹی ہے، پاکستان میں بھی سچائی نہیں چھپے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں