تربت بازار میں بم دھماکہ انتہائی قابل مذمت ہے ،دوکانداروں کو تحفظ فراہم کیا جائے،انجمن تاجران
تربت. انجمن تاجران تربت کی جانب سے گزشتہ روز تربت شہر میں ہونے والے دھماکے کے خلاف تربت میں جزوی ہڑتال کی گئی، ہڑتال کے دوران تاجر برادری کی جانب سے فدا شہید چوک سے نیشنل بنک تک ریلی نکالی گئی اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا. مظاہرہ سے انجمن تاجران کے صدر اسحاق روشن دشتی، سنیئر نائب صدر حاجی کریم بخش، نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما انجینئر حمید بلوچ، تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست اور غلام اعظم دشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے اندر بم دھماکے انتہائی قابل مذمت ہیں. دوکاندار ہروقت نشانہ پر ہیں گزشتہ روز ہونے والے دھماکے میں غریب مزدور اور مستری نشانہ بنے ہیں 8.10 سال کے بچے جو بیچارے مزدوری کرکے 200 سے 300 روپے روزانہ کماکر اپنے بے سہارا مائوں بہنوں کو دیتے تھے وہ دھماکے میں زخمی ہوکر ہسپتال میں پڑے ہیں. چند عرصہ قبل شہر کے اندر دھماکے سے دوکاندار حاجی سلیم کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا اور بے گناہ شہری شہید ہوا تھا اور معصوم لوگ زخمی ہوئے تھے اس دھماکے میں بھی بے گناہ لوگ نشانہ بنے. تاجر طبقہ کو تحفظ فراہم کیا جائے تاجر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ہر وقت تاجروں پر ظلم ہوتا آرہا ہے کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے دوکاندار پریشانیوں سے دوچار ہیں شہر کے اندر دھماکوں سے گریز کیا جائے تاجر برادری متحد و منظم ہوں امن پسند شہری ہیں ہمیں محنت مزدوری کرنے دیا جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کی سرکاری خرچ پر علاج کیا جائے.


