تعمیراتی سامان کی قیمت بڑھ چکی، ٹینڈر ریٹ میں اضافہ کیا جائے، گورنمنٹ کنٹریکٹرز خضدار
خضدار(نمائندہ انتخاب) خضدار کے مختلف تعمیراتی کمپنیوں کے مالکان و نمائندہ گان (جھالاوان کنٹریکٹرز اتحاد) بسم اللہ کنسٹریکشن کمپنی ماشاء اللہ کنسٹریکشن کمپنی دعا کنسٹریکشن کمپنی پاک بلوچستان بلڈرز بارانزئی بلڈرز جھالاوان کنسورشیم النصر انجنئرز حاجی سیف اللہ محمد شہی،حاجی کریم بخش جتک ارشاد احمد مینگل کنسٹریکشن کمپنی نیو ویژن آغا برادرز میر گھٹ اینڈ سنز نواز زہری کنسٹرکیشن کمپنی کی جانب سے خضدار پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ کنٹریکٹرز صوبے کی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان کی مشکلات میں دن بہ دن اضافہ کیا جا رہا ہے گزشتہ دو سال سے ملکی سطح پر تعمیراتی مٹیریل میں بے تہاشہ اضافہ کی وجہ ان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے تعمیراتی مٹریل میں سیمنٹ سریا لیبر چارجز میں بھی دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے سال دوہزار اٹھارہ کے شیڈول کے مطابق ٹینڈر کیا جا رہا ہے جوکہ سراسر نا انصافی پر مبنی ہے جسکی واضح مثال مارکیٹ میں تعمیراتی سریا کی قیمت ایک لاکھ چالیس ہزار روپے ہے جبکہ دوہزار اٹھارہ کے شیڈول میں ایک لاکھ تیس ہزار روپے اداکی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ مختلف مدات میں گورنمنٹ ٹیکسز ساڑھے تیرہ فیصد ٹیکس بھی اسی میں شامل ہے علاوہ ازیں لیبر چارجز ٹرانسپورٹ بھی اس میں شامل ہیں انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی معیار اور بروقت تکمیل بھی ہماری ذمہ داری ہوتی ہے ہماری ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ کام کی معیار بہتر سے بہتر ہو لیکن آئے روز تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافہ سے ہم معاشی طور پر دن بہ دن مشکلات کا شکار ہورہے ہیں سرکاری محکمہ جات کی جانب سے اے جی آفس اور ٹریژری آفس کی ذاتی عناد کی وجہ سے بھی گورنمنٹ کنٹریکٹرز مالی مشکلات کا شکار ہیں گزشتہ دو مہینے سے ان کی رنجش کے باعث کوئی چیک پاس نہیں ہو رہا ہمارے پاس لیبر اور مٹیریل کے لئے ادائیگی ناممکن ہوتا جا رہا ہے جس کی بنا پر تعمیراتی اخراجات بھی ممکن نہیں ہورہا ہے ہمیں ان حالات میں رہتے ہوئے اپنے اسکیمات کی معیاری اور بروقت تکمیل میں مشکلات درپیش ہیں ہم تمام گورنمنٹ کنٹریکٹرز حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ شیڈول دو ہزار اٹھارہ پر نذر ثانی کرکے موجودہ مارکیٹ ریٹ پر مقرر کی جائے شہید سکندر یونیورسٹی کی شیڈول ریٹ انیس اٹھانوے شیڈول پر نذر ثانی کرکے صوبے کے دیگر یونیورسٹیز کے مطابق کی جائے خزانہ اور اے جے آفس کو پابند کیا جائے کہ وہ گورنمنٹ کنٹریکٹرز کے چیک بروقت ادا کریں


