ڈینئل پرل قتل کیس: سندھ حکومت کو کل تک ملزمان کو رہا کرنے سے روک دیا

اسلام آباد: ڈینئل پرل قتل کیس میں سپریم کورٹ نے نظر بندی کے عبوری حکم میں ایک روز کی توسیع کر دی۔ عدالت نے سندھ حکومت کو کل تک ملزمان کو رہا کرنے سے روک دیا۔

ڈینئل پرل قتل کیس کے ملزم کی نظر بندی کیخلاف درخواست پر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ عدالت نے قتل کے مرکزی مقدمے میں وفاق کو نوٹس جاری نہیں کیا، جہاں قانون کی تشریح کرنی ہو اٹارنی جنرل کو نوٹس لازمی ہوتا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا جاننا چاہتے ہیں کیا کسی شہری کو یوں حراست میں رکھا جا سکتا ہے؟۔

معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ احمد عمر شیخ کے وکیل محمود شیخ بیمار ہیں، بہتر ہوگا سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کی جائے۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا مرکزی اپیلوں کی آرڈر شیٹ کا جائزہ لیں گے، فکر نہ کریں محمود شیخ کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔ معاون وکیل نے کہا محمود شیخ کا کورونا ٹیسٹ کرایا، رپورٹ کا انتظار ہے، عمر شیخ 10 ماہ سے غیر قانونی حراست میں ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا جائزہ لیں گے عمر شیخ کو کیوں حراست میں رکھا گیا، عمر شیخ کو حراست میں رکھنے کے حکم نامے میں کئی بار توسیع کی گئی۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں