بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت

وزیر اعظم عمران خان نے کوٹلی میں کشمیرریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک بارپھر بھارت کو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی مشروط دعوت دی ہے،مذاکرات سے پہلے انہیں آرٹیکل 370 اور 5اگست2019سے پہلے والی صورتحال بحال کرنی ہوگی۔کشمیر کا مسئلہ ہمارے ساتھ مل کر حل کریں۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں ایک اہم اعلان یہ کیاہے کہ حق خودارادیت ملنے پر کشمیری پاکستان کے لئے فیصلہ کریں گے، پھر ہم انہیں اختیار دیں گے کہ وہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزاد؟یاد رہے اس سے پہلے اس قسم کا اعلان کسی وزیر اعظم نے کشمیر ڈے پر نہیں کیا تھا۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے انسانی المیہ کے خاتمہ کا وقت قریب آگیا ہے۔کشمیری بھارتی مظالملاک ڈاؤن، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا عزم و ہمت سے مقابلہ کرر ہے ہیں مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور عالمی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔پی ڈی ایم نے اس موقعے پر مظفرآباد میں جلسہ عام منعقد کیا،مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ناجائز حکومت کو کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں جہاں سقوط کشمیر کا ذکر آئے گا، وہاں عمران خان مجرم بن کر کھڑا ہوگا۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہمارا وزیر اعظم اور مودی ایک پیج پر ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی اور کشمیر کے عوام کا تین نسلوں کا ساتھ ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا: ”کشمیر کی آزادی کے لئے ہزار سال بھی جنگ لڑیں گے“۔بی بی شہید نے کہا تھا:”جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا“۔ہمارا نعرہ آج بھی وہی ہے کہ کشمیر میں رائے شماری ہونی چاہیئے۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہاعمران خان اور ان کی لابی کشمیر کی تقسیم کا سوچ رہی ہے۔کاش وہ اپنے دعوے کی سچائی کا کوئی ثبوت بھی پیش کرتے۔
پی ڈی ایم کی قیادت کو یقین ہے کہ مسئلہ کشمیر کا سودا ہوچکا، 5فروری2019کو پاکستان نے مقبوضہ کشمیر بڑی خاموشی سے بھارت کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔لیکن وقت تیزی سے ایسے اشارے دے رہا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کے مردہ جسم میں بھی زندگی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنی سالانہ رپورٹ میں ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کو دیرینہ حل طلب مسئلہ تسلیم کیا اور اپنی ثالثی کی پیش کش پر قائم ہیں۔دوسری جانب یہ بھی ایک تاریخی سچائی ہے کہ 5فروری2019کو بھارت نے صرف مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں کی تھی بلکہ اس نے چینی ملکیت کے دیرینہ دعوے کو یکطرفہ مسترد کرتے ہوئے متنازعہ لداخ کو بھی دہلی کے کنٹرول میں دینے کا فیصلہ کیا تھا۔چین نے ایک سال کی خاموش مگر بھرپور تیاری کے بعد ایک گولی فائر کئے بغیر نہ صرف LAC(لائن آف ایکچوئل کنٹرول) عبور کی بلکہ اپنے دعویٰ کردہ علاقے پر قبضہ بھی کرلیاہے۔اور وہاں نئی بستیاں بھی بسا رہا ہے۔ گوگل پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ نیپال کو اس نے اپنا پرانا نام دے دیا ہے، بھاتی فوج ادھر کا رخ نہیں کرتی۔چین بھی 5فروری کے بھارتی فیصلے سے متأثر ہوا ہے۔آج دنیا کی دوسری معاشی اور فوجی طاقت کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے،اس نے اپنے حجم اور وزن کے مطابق فیصلہ کیا، امریکہ نے جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کو ساتھ ملا کر ایک چاررکنی اتحاد تشکیل دینے اور چین کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش ضرورکی تھی مگر اس میں بری طرح ناکام رہا،آسٹریلیا کے سوا، بھارت سمیت کسی نے چین مخالف محاذ بنانے اور چین کے لئے اس خطے میں مشکلات پیدا کرنے کی حمایت نہیں کی۔یہ بھارت اور امریکہ کی ناکامی کے سوا اور کیا ہے؟ پاکستان اپنی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔اگر مقبوضہ کشمیربھارت کی گود میں جا چکا ہوتا تو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جموں میں جشن منا رہے ہوتے۔انہیں تو دہلی میں فوجی پریڈ ادھوری چھوڑ کر جانا پڑا تھا کہ کسانوں کا ٹریکٹر مارچ ان کے بہت قریب (دو میل کے فاصلے پر) پہنچ چکا تھا۔یہ مشورہ اسے ان کی بہادر سینا نے دیا تھا۔زمینی حقائق یہی کہتے ہیں۔
بھارتی میڈیااپنی حکومت کی نالائقی کا ماتم کرتا نظر آتا ہے۔ دھیمے لہجے میں اپنا مدعا بیان کرنے والے معروف بھارتی کالم نگارڈاکٹر وید پرتاپ ویدیک یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ”کسان تحریک جو 25جنوری تک بھارتی جمہوریت کی شان میں اضافہ کر رہی تھی، اب غم و شرم کی ایک وجہ بن گئی ہے،26جنوری کو جو ہوا سو ہوا، لیکن اس کے بعد حکومت کو کسانوں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیئے تھا۔معاشی حالت یہ ہے کہ حکومت اس سال تقریبا ً 35لاکھ کروڑ روپے خرچ کرہی ہے، یہ خرچ کس طرح پورے کئے جائیں گے؟ اس کے لئے سرکاری اراضی،کارخانے، مالیاتی تنظیمیں، سرکاری کمپنیاں وغیرہ بیچنا پڑیں گی۔دو سرکاری بینک بھی جائیں گے۔“۔۔یاد رہے جو ملک مسلسل حالت جنگ کی پالیسی اپناتا ہے اس کا انجام یہی ہوتا ہے۔ہٹلر جرمنی کو عالمی فارح بنانے کا نعرہ لگا کر آیاتھا،کس حالت میں چھوڑ کر رخصت ہوا تھا، تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔امریکہ سے بھی جلد یا بدیر ایسی ہی اطلاعات موصول ہونا شروع ہو جائیں گی۔وہ دن لد گئے جب جنگوں کے نتیجے میں مفتوحہ ممالک کی دولت لوٹ کر اپنے ملک پہنچائی جاتی تھی اور لوٹ مار کا سلسلہ سیز فائر پر ختم ہوتا تھا۔امریکہ کی عالمی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے ورنہ امریکہ کی سربراہی میں بھارت، جاپان اور آسٹریلیاچین کے خلاف میدان میں اتر چکے ہوتے۔جو کچھ کل تک خلیجی ریاستوں میں ہوتارہا وہی اس خطے میں منتقل ہو چکا ہوتا۔مگرآج کسی میں کرنل صدام حسین ثانی بننے کا حوصلہ نہیں رہا۔عالمی منظر بدل چکا ہے۔جوں جوں وقت گزرے گا معاملات واضح شکل اختیار کر لیں گے۔ پی ڈی ایم کی اعلیٰ قیادت شدید عجلت میں ہے مگر ہتھیلی میں سرسوں اگانے کی خواہش پوری ہونا ممکن نہیں۔لیڈر اور سڑک پر چلتے عام شخص کی گفتگو میں فرق ہوتا ہے۔ لیڈر کی گفتگو میں عامیانہ پن دیکھ کر عام آدمی کو روحانی اذیت ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں