اے این پی کا 22فروری کو ملک بھر میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کا اعلان

پشاور/کوئٹہ :عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ 22 فروری کو ملک بھر میں لاپتہ افراد کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے، اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی پچھلے کئی مہینوں سے لاپتہ ہے، اسد خان اچکزئی سمیت تمام پختون، بلوچ اور ملک بھر میں تمام لاپتہ افراد کو باحفاظت بازیاب کرایا جائے، اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لئے قانون سازی کی جائے اور ان کو عدالتوں میں پیش کر کے ان کا صاف اور شفاف ٹرائیل کیا جائے۔ باچا خان مرکز میں عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی کابینہ، مرکزی مجلس عاملہ اور مرکزی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کے احتجاجی مظاہرے پر حکومتی تشدد شرمناک اور قابل مذمت ہے، ان کے خلاف جو کارروائیاں ہو رہی ہیں ان کو فی الفور روکا جائے اور تمام گرفتار مظاہرین کو رہا کیا جائے اور ان کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں، عوامی نیشنل پارٹی سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ کو مسترد کرتی ہے، پارلیمنٹ میں ناکام حکومت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اپنا فیصلہ مسلط کرنا چاہتی ہے، سلیکٹڈ حکمران اپنے اراکین اور اتحادیوں میں پھوٹ پڑنے اور اپنی نااہلی چھپانیکے لئے صدارتی آرڈیننس کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی قانون سازی کے خلاف نہیں لیکن جس طرح حکومت صدارتی آرڈیننس کے راستے پارلیمان کی بے توقیری کر رہی ہے وہ کسی طور قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی چیلنج کرتی ہے کہ ہمارے پچھلے دور حکومت میں اگر ہمارے کسی ایک بھی رکن نے سینیٹ انتخابات ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہو تو ثابت کردیں، اے این ہارس ٹریڈنگ کی بھرپور مخالفت اور مذمت کرتی ہے، اے این پی کی تاریخ ہے کہ جس نے بھی ووٹ بیچا انہیں پارٹی سے نکال دیا، جب چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد لایا گیا تو پورا اصطبل بک گیا، اے این پی نے اپنی واحد سینیٹر کو بھی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پارٹی سے نکال دیا۔ اب قانون سازی کرنے والوں کو گزشتہ ڈھائی سال میں انتخابی اصلاحات یاد نہیں تھے، 2018 انتخابات کے بعد سے اپوزیشن کہہ رہی ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے لیکن حکومت انتخابی اصلاحات لانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے، اب بھی اپوزیشن کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہورہا اور نہ آئینی راستہ اختیار کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کی مضبوطی کا ضامن ہے نا کہ کمزوری کا، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خلاف سازشیں کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں، جو بھی اٹھارہویں آئینی کو رول بیک کرنے کی کوشش کرے گا وہ پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا، جو بھی اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑنے کی کوشش کرے گا عوامی نیشنل پارٹی ہر میدان میں اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی۔امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ملک میں صدارتی نظام لاگو کرنے کے حوالے سے اے این پی کا روز اول سے واضح موقف ہے، اے این پی صدارتی نظام کی بھرپور مخالفت کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ وفاقی پارلیمانی نظام پاکستان کی بقا کا ضامن ہے، وفاقی پارلیمانی نظام میں مداخلت فوری طور پر روکی جائے اور الیکشن میں مداخلت کر کے سلیکشن کے لئے راہ ہموار نہ کی جائے۔ضم اضلاع سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلی نے کہا کہ ضم اضلاع میں تمام اختیارات فوری طور پر سول انتظامیہ کے حوالے کئے جائیں اور ان معاملات میں حائل رکاٹیں دور کی جائیں، این ایف سی ایوارڈ میں ضم اضلاع کیلئے مختص 3 فیصد شیئرز کو ہنگامی بنیادوں پر ریلیز کیا جائے، تاکہ ضم اضلاع کے عوام میں احساس محرومی کو ختم کیا جاسکے اور ان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کے زیادہ انحصار پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ پیدل تجارت پر ہے، باجوڑ سے لے کر چمن تک تجارت اور کاروبار میں حائل رکاوٹیں ختم جائیں اور بارڈرز پر آسانیاں پیدا کی جائیں۔ضم اضلاع سمیت صوبے کے دیگر حصوں میں دہشتگرد گروہیں منظم ہورہی ہیں، آئے روز ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور دیگر واقعات رونما ہورہے ہیں،عوامی نیشنل پارٹی ریاست سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور اس کو روکنے کیلئے ضروری اقدامات کرے، چالیس سال سے پختونخوا خون ریزی کا شکار ہے، پختونخوا سمیت پورا پاکستان دہشتگردی کی ایک اور لہر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ نئے این ایف سی ایوارڈ کا اجرا یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے ضروری اقدامات کئے جائیں۔افغان امن عمل بارے ان کا کہنا تھا کہ افغان امن مذاکرات افغانستان اور پاکستان سمیت پورے خطے کے لئے نہایت اہم ہیں اور اے این پی کا روز اول سے موقف ہے کہ امن مذاکرات افغان "لڈ” اور افغان "اونڈ” ہوں اور آج بھی ہم اس موقف کے ساتھ کھڑے ہیں، نومنتخب امریکی حکومت کی جانب سے افغان حکومت کو فریق تسلیم کرنا قابل ستائش اور حل کی جانب ایک اچھا قدم ہے،مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لئے تمام فریقین جنگ بندی کا اعلان کرے اور مزید خونریزی سے گریز کیا جائے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان بد اعتمادی کو ختم کرنے کے لئیمثبت اقدامات کئے جائیں، دونوں ممالک کے درمیاں اعتماد کے فقدان کا فائدہ امن دشمنوں کو ہوگا۔حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کا رویہ سیاسی نہیں اور اپوزیشن کو دھمکیاں دینے کا رواج پروان چڑھا رہے ہیں، اے این پی حکومت کے اس روئے کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے این آر او کا رٹ لگایا جارہا ہے،عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور مرکزی کونسل نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کا متفقہ فیصلہ کیا اور پارٹی کی مرکزی اور صوبائی تنظیمں اس حوالے سے مل کر مشترکہ لائحہ عمل بنائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اے این پی چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور(سی پیک) میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو ان کا جائز حصہ دینے کا مطالبہ کرتی ہے، سی پیک میں مغربی روٹ کے وعدے کو عملی شکل دی جائے اور جنوبی اضلاع کی احساس محرومی کا خاتمہ کیا جائے۔گوادر کے حوالے سے بلوچستان کے عوام کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، گوادر پرپہلا حق بلوچستان کے عوام کا تسلیم کیا جائے،ایک طرف گوادر میں تجارت اوردوسری جانب بلوچستان کے احساس محرومی میں اضافہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری بارے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ موجودہ حالات میں عام آدمی کا جینا مشکل ہوگیا، غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہے ہیں، اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے، سلیکٹڈ وزیراعظم حقیقت کو تسلیم کرے، اگر عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے تو ان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث نہ بنے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں