مظاہروں کے دوران 111 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، اسرائیلی اور امریکی حمایت یافتہ فسادی لوگوں کے سر قلم کررہے ہیں، ایرانی صدر
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران میں مظاہروں کے دوران 111 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ملک بھر میں جاری مظاہروں کے دوران کم از کم 111 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں سے منسلک بدامنی کے دوران مختلف صوبوں میں پولیس افسران کو ہلاک کیا گیا۔ یہ مظاہرے لگ بھگ دو ہفتے قبل مہنگائی میں تیزی سے اضافے کے ردعمل میں شروع ہوئے تھے۔ مظاہرین نے موجودہ معاشی صورتحال کی شدید مخالفت کا اظہار کیا ہے اور وہ ملک کے حکمرانوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل کا مقصد حالیہ 12 روزہ جنگ کے ذریعے ملک کو افراتفری کی طرف دھکیلنا تھا۔ ایرانی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اندرون ملک اور بیرون ملک تربیت یافتہ ہیں، کچھ دہشت گردوں کو باہر سے ملک میں داخل کیا گیا، مساجد کو آگ لگائی گئی اور رشت میں بازاروں کو جلایا گیا۔ ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ کچھ لوگ جو عوام میں سے نہیں ہیں اور اس ملک سے تعلق نہیں رکھتے نے لوگوں کو رائفلوں اور مشین گنوں سے قتل کیا۔ انہوں نے کچھ کے سر قلم کیے، کچھ کو آگ لگا دی۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ان فساد بپا کرنے والوں کو کہہ رہے ہیں کہ آگے بڑھو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ مسعود پزشکیان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ محلوں میں جمع ہوں اور افراتفری کو روکیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ہدایت یافتہ اور تربیت یافتہ افراد عوام پر گولیاں چلا رہے ہیں اور گھروں و املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔


