ایرانی شہری گھروں سے باہر نہ نکلیں، حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے، امریکی فوجی حکام خودمختاری کے دفاع کیلئے کسی دباﺅ کے سامنے جھکنے والے نہیں، آخری دم تک لڑیں گے، ایرانی وزیر خارجہ
واشنگٹن، تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فوجی حکام اور سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے حوالے سے خدشات موجود ہیں جبکہ دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھی نئی حکمت عملی زیر غور ہونے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بعض حملے شہری علاقوں کے قریب سے کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اگر کسی جگہ سے فوجی کارروائی کی جا رہی ہو تو بین الاقوامی قوانین کے تحت اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی فوج نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دیں۔ امریکی فوجی حکام نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں وہ ایران کے عام شہریوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ دوسری جانب بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں ایک خصوصی مشن بھیجنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنی قومی عزت، وقار اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ڈٹا ہوا ہے اور کسی بھی دباو¿ کے تحت سرنڈر نہیں کرے گا۔ ایک انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت اپنی قوم اور اپنے وقار کا دفاع کر رہا ہے اور ملک کی عزت و وقار فروخت کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس بھی ایران سے غیر مشروط سرنڈر کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے اس وقت بھی ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کسی بھی دباو¿ کے سامنے جھکنے والا نہیں اور ملک نے ماضی میں بھی اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا تھا۔ عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ جب تک مکمل جنگ بندی کا واضح عہد نہیں کیا جاتا، ایران اپنی مزاحمت جاری رکھے گا اور لڑائی جاری رہے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی صورت میں سرنڈر نہیں کرے گا۔


