خضدار سے مویشیوں کی اسمگلنگ، قیمتوں میں اضافے سے غریب عوام کا عیدالاضحی پر سنت ابراہیمی سے محروم ہونیکا خدشہ، بی این پی عوامی
خضدار (بیورو رپورٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی خضدار کے ضلعی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں خضدار کی بکرا منڈی میں پیدا بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہےان کا کہنا ہے کہ جانوروں کی بے تحاشا اسمگلنگ اور غیرقانونی منتقلی کے باعث مقامی غریب عوام عیدالاضحیٰ پر قربانی جیسے بنیادی مذہبی فریضے سے بھی محروم ہو سکتے ہیں ضلعی ترجمان نے کہا جب ضلعی انتظامیہ نے مال مویشی کو ضلع سے باہر لے جانے پر دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کیا تو عوام نے سکھ کا سانس لیا اور خوشی سے جھوم اٹھے لوگوں کو امید تھی کہ اب مقامی منڈی میں جانوروں کی دستیابی بڑھے گی اور قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں آئیں گی لیکن یہ خوشی زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی ترجمان نے کہا کہ جانوو پرضلعی سے باہرپابندی کے باوجود مال مویشی بلا روک ٹوک دوسرے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں پابندی کا اعلان صرف کاغذوں تک محدود رہ گیا ہے زمینی حقائق میں اس پر عملدرآمد صفر ہے اور کنٹرول نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی رپورٹ کے مطابق خضدار سے روزانہ مزدا گاڑیوں میں بھر بھر کر جانور کوئٹہ اور مکران کے راستے بیرون ملک اسمگل کیے جا رہے ہیں، اس غیرقانونی اسمگلنگ نے مقامی منڈی میں جانوروں کی شدید کمی پیدا کر دی ہے، جس کا براہ راست اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے، ضلعی ترجمان نے کہا کہ خضدار میں مال مویشی کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر آسمان کو چھو رہی ہیں، ایک عام بکرے اور بھیڑ کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہے، لوگ منڈی میں آتے ہیں صرف قیمتیں پوچھتے ہیں اور جیب کی خالی حالت دیکھ کر مایوس ہو کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں پہلے ہی غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے، اب قربانی جیسی سنت ادا کرنا بھی ایک خواب بن چکی ہے اگر یہی صورتحال رہی تو خضدار کے ہزاروں گھرانے اس سال عید قربانی سے یکسر محروم رہ جائیں گے۔


