بلوچستان میں نوکریاں، پوسٹیں اور پتا نہیں کیا کیا بک ہا ہے، بلوچ مہربانی کریں، آئیں بھائی بندی کی طرح صوبے کو چلائیں، محمود اچکزئی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے ٹی ٹی اے پی کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ میں کیا کہوں؟ پھر وہی عمران خان، کہتے کہتے ہم تھک گئے۔ آج تک اس کی ملاقات پر پابندی ہے! خطرناک؟ جب وہ خطرناک تھا تو پھر آپ نے اسے اپنا وزیراعظم کیوں بنایا؟ اور اب یہ غلطی کر رہے ہیں۔ جتنے دن آپ اسے رکھیں گے، اس کی پاپولرٹی آسمان تک پہنچ گئی ہے۔ جب عمران نے استعفیٰ دیا تھا یا عدم اعتماد کی تحریک آئی تھی، تب پارٹی چھوڑنے پر تیار لیڈرز کا گراف نیچے آ گیا تھا۔ پھر خدا بھلا کرے ہمارے دوستوں کا، شہباز شریف اور ان کے دوسرے ساتھی کا؛ ان کو حکمرانی کا بڑا شوق تھا، انہوں نے حکمرانی لمبی کر دی اور عمران خان کی پاپولرٹی واپس بحال ہوگئی۔ اب جتنا اسے تنگ کیا جائے گا… آج انتخابات کروا لیں، کسی کو اچھا لگے یا برا، عمران خان پورے پاکستان کو سویپ کر جائے گا۔ پورا پاکستان! وہ بیمار ہے، قیدی ہے، اس کا مطالبہ بھی اتنا بڑا نہیں ہے۔ آپ اسے رات کو پمز ہسپتال لے آتے ہیں، وہ خود یا اس کی بہنیں کہتی ہیں کہ فلاں اسپتال لے جاﺅ، تو کسی کو بتائے بغیر لے جائیں، یہ پریشر کم ہو جائے گا۔ بہنیں ملنا چاہتی ہیں، کوئی دوست یا بچے ملنا چاہتے ہیں، بس یہ سختیاں لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کوشش کی کہ وہ شریف آدمی ٹوٹ جائے، لیکن اگر ٹوٹ جاتا تو پتا نہیں کیا ہو جاتا! وہ نہیں ٹوٹا۔ جب نہیں ٹوٹا، تو اب مہربانی کریں اور اس سے بات کریں۔ مائنس عمران خان کا فارمولا کوئی قبول نہیں کرے گا۔ یا پھر دوسرا راستہ وہی ہے جو آپ لوگوں نے بھٹو کے ساتھ اپنایا تھا۔ بھٹو غریب 21 مہینے جیل میں رہا، ملاقات کے لیے کم لوگ ملتے تھے، آپ نے جا کر اسے پھانسی چڑھا دیا۔ اب وہ، اس کی بیٹی، اس کا ایک بیٹا، وہ ایک مزارِ شہدا بن گیا جو سندھ کے تمام پیروں سے اوپر چلا گیا۔ اگر عمران خان کے ساتھ بھی یہی رویہ رکھنا ہے، تو پھر پاکستان کا خدا ہی خیر کرے۔ پاکستان، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ میں اپنے دوستوں سے اپیل کرتا ہوں، یہاں بھی اور اپنے بلوچ بھائیوں سے بھی، کہ مہربانی کریں، آئیں بھائی بندی کی طرح اس صوبے کو چلائیں، گزارا کریں۔ سرفراز، میں کیا کروں؟ مجھے دکھ ہوتا ہے اس کا نام لیتے ہوئے بھی۔ سب کچھ بک رہا ہے` نوکریاں بک رہی ہیں، پوسٹیں بک رہی ہیں، پتا نہیں اور کیا کیا بک رہا ہے۔ کہتے ہیں مجھے وہاں لگا دو، اس کے کروڑ لے لو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے