سوئی سے تعلق رکھنے والے بے روزگار نوجوان نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجاً اپنی تعلیمی اسناد نذر آتش کردیا
کوئٹہ(این این آئی)ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی سے تعلق رکھنے والے بے روزگار نوجوان قائم خان نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اپنی تعلیمی اسناد نزر آتش کر دیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے گریجویشن مکمل کر رکھی ہے، لیکن متعدد سرکاری و نجی اداروں میں درخواستیں دینے کے باوجود انہیں آج تک ملازمت نہیں مل سکی۔قائم خان نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان کے مختلف محکموں میں ملازمت کے حصول کے لیے ان سے رشوت طلب کی گئی، جبکہ میرٹ کے برعکس بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل بے روزگاری کے باعث وہ اب اوور ایج ہو چکے ہیں اور شدید مایوسی کا شکار ہیں۔احتجاج کے دوران قائم خان نے کہا کہ ”یہ صرف کاغذات نہیں بلکہ میری 20 سالہ جدوجہد اور محنت کی علامت ہیں، جنہیں آج مجبوری میں جلانا پڑا۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وڈیرہ شاہی اور سفارش کے کلچر کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔قائم خان کا کہنا تھا کہ وہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، مگر حکومتی عدم توجہی اور روزگار کے محدود مواقع نے انہیں اس انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔


