قومی اسمبلی میں اہلکاروں سے بدتمیزی پر پی ٹی آئی رکن اقبال آفریدی کو بجٹ سیشن کیلئے معطل کر دیا گیا، اراکین نے تحریک منظور کرلی

اسلام آباد (این این آئی، آن لائن) اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تحریک انصاف کے رکن اقبال آفریدی کو معطل کر دیا۔ جمعرات کو اقبال آفریدی کو پورے بجٹ سیشن کے لیے معطل کیا گیا ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ اقبال آفریدی نے میرے اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی، یہ سب ناقابلِ قبول ہے۔ بعد ازاں فرح ناز اکبر نے اقبال آفریدی کی رکنیت معطلی کی تحریک پیش کی جو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلی۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ معطلی کے دوران اقبال آفریدی کو کسی قسم کے الاﺅنسز نہیں ملیں گے، ایوان سے خود چلے جائیں، اگر خود نہ گئے تو سیکورٹی اہلکار زبردستی باہر لے جائیں گے۔ قومی اسمبلی نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن اقبال آفریدی کی رکنیت موجودہ اجلاس کے پورے سیشن کیلئے معطل کرنے کی تحریک منظور کر لی۔ تحریک رکن قومی اسمبلی فرح ناز اکبر نے پیش کی جسے ایوان نے منظور کر لیامعاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے الزام عائد کیا کہ اقبال آفریدی کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ پر ایسے ملک کا سفر کیا جہاں ویزا فری سہولت دستیاب تھی اور بعد ازاں وہاں سے اٹلی پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں یہ پاسپورٹ سرنڈر کر دیا گیا، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ پارلیمانی استحقاق اور سہولت کا مبینہ طور پر غلط استعمال کیوں کیا گیا۔طلال چوہدری نے کہا کہ ایوان میں آ کر دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اس معاملے کی وضاحت نہیں دی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی مراعات کے غلط استعمال کے الزامات کا جواب دیا جانا چاہیے۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاسپورٹ کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق معاملہ مزید جانچ کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقبال آفریدی کی معطلی پورے سیشن کے لیے ہوگی اور اس دوران وہ کسی قسم کے الاو¿نسز یا مراعات کے حقدار نہیں ہوں گے۔تحریک کی منظوری کے بعد اسپیکر نے اقبال آفریدی کو ایوان سے باہر جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ "آپ نکل جائیں، آپ کی عزت اسی میں ہے”، جس پر اقبال آفریدی ایوان سے باہر چلے گئے۔بعد ازاں رکن قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری نے کارروائی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقبال آفریدی کی معطلی سے متعلق ایوان کے فیصلے کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے مو¿قف اختیار کیا کہ اجلاس کے دوران بار بار کورم کی نشاندہی کر کے کارروائی میں رکاوٹ ڈالی جا رہی تھی۔طارق فضل چوہدری نے ایک اور معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز عبدالقادر پٹیل نے صومالی قزاقوں کی تحویل میں موجود دس پاکستانیوں کی بازیابی کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی جانب سے اس معاملے پر اقدامات تیز کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل میں صحت کی تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی طبی ضروریات کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں