بلوچستان ایم ڈی کیٹ کے نتائج کے اجراءمیں مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تشویش ہے، بی ایس او شال زون

کوئٹہ (انتخاب نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے بلوچستان ایم ڈی کیٹ کے نتائج کے اجراءکے طریقہ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔ایم ڈی کیٹ بلوچستان کے ہزاروں طلبہ کے مستقبل سے وابستہ ایک انتہائی حساس اور اہم امتحان ہے، جس کے انعقاد، پیپر، جوابی کلید اور نتائج کی رازداری و حفاظت کی مکمل ذمہ داری متعلقہ یونیورسٹی اور اس کی ایگزامینیشن برانچ پر عائد ہوتی ہے۔ ایسے حساس امتحان کا مکمل نتیجہ یونیورسٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر اعلان کیے جانے سے قبل کسی تھرڈ پارٹی نیوز ویب سائٹ پر پی ڈی ایف کی شکل میں سامنے آنا انتہائی تشویشناک امر ہے اور اس سے طلبہ کے ذہنوں میں کئی سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔یہ امر قابلِ وضاحت ہے کہ اگر یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر نتیجہ جاری ہونے سے قبل مکمل رزلٹ کسی تھرڈ پارٹی نیوز آو¿ٹ لیٹ تک پہنچ گیا تھا تو آخر یہ معلومات یونیورسٹی کے محفوظ امتحانی نظام سے باہر کیسے گئیں؟ نتیجے کی پی ڈی ایف کس کے پاس موجود تھی، اسے کس ذریعے سے حاصل کیا گیا اور اسے یونیورسٹی کے باضابطہ اعلان سے قبل کس بنیاد پر شیئر کیا گیا؟ یہ سوالات محض طلبہ کے نہیں بلکہ پورے امتحانی نظام کی شفافیت اور ساکھ سے متعلق ہیں۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ مبینہ طور پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ نتیجہ وائس چانسلر کی جانب سے بعض افراد کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو اس کی مکمل وضاحت ضروری ہے کہ ایک انتہائی حساس امتحانی نتیجہ یونیورسٹی کے آفیشل اعلان سے قبل کسی تیسرے فریق تک کس اختیار کے تحت پہنچا۔ اگر یہ دعویٰ غلط ہے تو یونیورسٹی انتظامیہ کو فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے طلبہ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔بی ایس او شال زون واضح کرنا چاہتا ہے کہ کسی نتیجے کا قبل از وقت کسی بیرونی پلیٹ فارم پر ظاہر ہونا بذاتِ خود نمبرز میں تبدیلی یا کسی امیدوار کو فائدہ پہنچانے کا ثبوت نہیں، لیکن اگر امتحانی نتائج تک باضابطہ اعلان سے پہلے غیر مجاز رسائی ثابت ہوتی ہے تو یہ ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے، کیونکہ جس نظام میں رزلٹ کی رازداری برقرار نہ رہے وہاں طلبہ کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ رزلٹ کی تیاری سے لے کر اس کے آفیشل اعلان تک مکمل ایکسس لاگز، ڈیجیٹل ریکارڈ اور فائل کی نقل و حرکت کی فرانزک جانچ کی جائے۔ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایم ڈی کیٹ بلوچستان کوئی عام ٹیسٹ نہیں بلکہ بلوچستان کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس امتحان کے پیپر، رزلٹ اور میرٹ میں کسی بھی قسم کا ابہام پورے داخلہ نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر نتیجہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری ہونے سے ایک روز قبل کسی بیرونی پلیٹ فارم پر دستیاب ہو سکتا ہے تو طلبہ کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ امتحانی ڈیٹا کی سیکیورٹی اور ایکسس کنٹرول کس حد تک محفوظ ہے۔وائس چانسلر بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر شبیر لہڑی سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اس معاملے پر واضح مو¿قف اختیار کریں اور طلبہ کو بتایا جائے کہ ایم ڈی کیٹ رزلٹ کے آفیشل اعلان سے قبل اس کی پی ڈی ایف کسی تھرڈ پارٹی پلیٹ فارم تک کیسے پہنچی۔ اگر یونیورسٹی کی جانب سے کسی شخص یا ادارے کے ساتھ نتیجہ شیئر کیا گیا تھا تو اس کی اجازت کس سطح پر دی گئی اور اس کی وجہ کیا تھی؟اسی طرح ماضی میں بی ایم سی کی نشستوں اور بیرونِ ملک مخصوص نشستوں سے متعلق جو الزامات سامنے آتے رہے ہیں، ان معاملات پر بھی اگر کوئی باقاعدہ انکوائری یا دستاویزی کارروائی موجود ہے تو اسے طلبہ کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ تاہم بی ایس او شال زون یہ بھی واضح کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف غیر ثابت شدہ الزام کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں؛ اصل ذمہ داری شفاف تحقیقات اور حقائق سامنے لانے کی ہے۔بی ایس او شال زون سمجھتا ہے کہ طلبہ کو کسی شخصیت یا ادارے سے خصوصی رعایت نہیں چاہیے، بلکہ انہیں صرف یہ یقین دہانی چاہیے کہ ان کے مستقبل سے متعلق امتحان مکمل شفاف، محفوظ اور غیر جانب دارانہ طریقے سے منعقد اور اس کے نتائج جاری کیے گئے ہیں۔ اگر کسی مرحلے پر قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور انہیں متعلقہ قوانین و ضوابط کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔ہم بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایم ڈی کیٹ رزلٹ کے قبل از وقت تھرڈ پارٹی تک پہنچنے کے معاملے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، امتحانی ریکارڈ اور ڈیجیٹل ایکسس لاگز محفوظ کیے جائیں اور اس معاملے میں پائی جانے والی تمام حقیقتیں بلوچستان کے طلبہ کے سامنے لائی جائیں۔بلوچستان کے طلبہ اپنے مستقبل کے فیصلے میں شفافیت، میرٹ اور اعتماد چاہتے ہیں۔ ایم ڈی کیٹ کے معاملے میں کسی بھی قسم کا ابہام قابلِ قبول نہیں، اور ہر سوال کا جواب حقائق اور شفاف تحقیقات کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں