وزیراعظم کا بیان الیکشن کمیشن کیلئے دکھی ہونے کی نہیں شرمندہ ہونے کی بات ہے، فواد چودھری
اسلام آباد :وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا بیان الیکشن کمیشن کیلئے دکھی ہونے کی نہیں، شرمندہ ہونے کی بات ہے،جوڈیشل ادارے کی جانب سے وزیراعظم کے بیان پر پریس ریلیز جاری ہونا غیر مناسب ہے،ادارے اپنی غیرجانبداری،آزادی،اپنے اقدامات سے ظاہر کرتے ہیں پریس ریلیز سے نہیں،ہم کسی سیاسی جماعت کی نہیں نظام کو ٹھیک کرنے کی بات کر رہے ہیں، جدوجہد اس طبقے کے خلاف ہے جس نے ملک کو تباہ کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز اور بیرسٹر علی ظفرکے ہمرہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف الیکشن کمیشن سمیت ملک کے تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں، الیکشن کمیشن محترم ہے اور محترم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی وزیراعظم عمران خان کے خلاف پریس ریلیز اچھی نہیں لگی،ادارے اپنی غیرجانبداری اور آزادی اپنے اقدامات سے ظاہر کرتے ہیں پریس ریلیز سے جاری نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے شفاف الیکشن کی ذمہ داری پوری نہیں کی،ہارس ٹریڈنگ نہیں رک سکی،عمران خان نے ہمیشہ کہا انتخابات میں ادارے غیر جانبدار ہوں، عمران خان سے زیادہ ثابت قدم ملک میں اور کوئی وزیراعظم نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پر دکھی ہونے کی بات نہیں بلکہ شرمندہ ہونے کی بات ہے اور اس حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے جو بات کی اس کا مطلب یہ ہے حکومت اور الیکشن کمیشن مل کر ایسا میکانزم تشکیل دیں کہ جس سے دھاندلی رک سکے اور شفاف الیکشن ممکن ہوسکیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی سیاست کا ستون شفاف انتخابات ہیں، جب کرکٹ کی دنیا میں غیر جانبدار ایمپائرز نہیں ہوا کرتے تو عمران خان غیر جانبدار ایمپائرز لے کر آئے اور انہوں نے سیاست میں ہمیشہ کہا کہ ادارے غیر جانبدار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ الیکشن کمیشن کو کوئی مضبوط دیکھنا نہیں چاہتا، چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کو بہت مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی سیاسی جماعت کی نہیں،نظام کو ٹھیک کرنے کی بات کر رہے ہیں، جدوجہد اس طبقے کے خلاف ہے جس نے ملک کو تباہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ الیکشن کمیشن کے حوالے سے یہ تاثر بھی جائے کہ جب لیڈر آف دی اپوزیشن آئے تو ان کے ریٹرننگ افسر کھڑے ہو کر استقبال لیکن جب وزیراعظم آئیں تو انہیں نظر انداز کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خیر سگالی کے جذبات ہوتے ہیں جس غیر جانبداری کا تاثر معلوم ہوتا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو وہ اقدامات اٹھانے چاہیے کہ جس سے ان کی غیر جانبداری اور آزادی مسلمہ طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ پریس ریلیز میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ شواہد کے ساتھ سامنے آنا چاہیے جس پر میں حیران ہوگیا ہوں، کیوں کہ آپ کے پاس ویڈیو ہے، جس میں خریداری ہورہی ہے، سندھ کے وزیر کی ایک آڈیو ہے جس میں وہ پیسوں کی بات کررہے ہیں اور پھر خود مریم نواز کی تقریر ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہمارا ٹکٹ بکاہے، ناصر شاہ کی آڈیو میں صاف ہے 12 کروڑ لے لیں، اس سے زیادہ کیا شواہد ہوں،ویڈیو اور مریم نواز کی تقریر واضح شواہد ہیں۔ الیکشن کمیشن کے بیان کہ ایک ہی چھت تلے ایک نشست آپ جیت گئے ایک ہار گئے کے جواب میں وفاق وزیر نے کہا کہ یہی تو دھاندلی کا ثبوت ہے، ایک الیکشن جس پر تمام تر توجہ مرکوز تھی اس میں ہمیں 164 ووٹس ملے جو ہمارے اراکین کی تعداد سے کم تھے اور اسی چھت کے نیچے ہماری خاتون امیدوار کو ہمارے پارٹی اراکین کی تعداد کے مطابق ووٹ ملے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو دکھی ہونے کی ضرورت نہیں ہے، آپ ایک بڑا طاقتور اور مضبوط ادارہ ہیں، بظاہر تو آپ اتنا طاقتور ادارہ ہیں کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی بھی پرواہ نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہمارا تو استدلال تو تسلیم نہیں کیا لیکن عدالت عظمیٰ نے یہ کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو یہ حق نہیں کہ وہ ووٹ کی رازداری دیکھ سکیں لیکن الیکشن کمیشن کو آئین کی دفعہ 218، 219 اور 2020 میں یہ حق حاصل ہے اور وہ ٹیکنالوجی استعمال کریں، الیکشن کو شفاف بنانے، ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں جب ہمارا وفد چیف الیکشن کمشنر اور اراکین سے ملاقات کی تو میں نے اپنی وزارت کی جانب سے انہیں بریفنگ دی تھی ہم روز کرنسی نوٹ چھاپتے ہیں جو سب سے خفیہ ہوتے ہیں تو اگر وہ چھپ سکتے ہیں تو بیلٹ پیپر چھاپنے میں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، ہم آپ کو ٹیکنالوجی کی معاونت دیں گے کہ آپ ایسا بیلٹ پیپر چھاپئے کہ جسے سوائے آپ کے کوئی اور نہ دیکھ سکے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم ایوان میں 172 سے زیادہ لوگ ظاہر نہیں کرسکتے تو ہمیں حکومت میں رہنے کا حق نہیں، مجھے امید ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے موقف پر نظر ثانی کرے گااور پریس ریلیز پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے اقدامات سے اپنی آزادی اور غیر جانبداری کو ثابت کرے گا جو ملک کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں قانونی طور اعتماد کے ووٹ کی ضرورت نہیں تھی لیکن عمران خان ایسے دلیرانہ فیصلے کرتے ہیں، اگر اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لاتی تو لوگوں کی تعداد پورا کرنا ان کی ذمہ داری تھی لیکن اس تحریک اعتماد میں ہم نے اپنا معیار اوپر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے 177 اراکین اسلام آباد آگئے ہیں، امید ہے 179 لوگ کل وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دیں گے۔اس موقع پر وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے ہمارے کلچر کو پیسے کا کلچر بنا دیا ہے، کرپشن کا اور پیسے کا استعمال پوری سوسائٹی میں پھیلایاگیا، انہوں نے اس ملک کی اخلاقیات کو نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ اور پی پی پی کی ترجیحات میں نہیں کہ انتخابات شفاف ہوں۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے وہ اپنا کام کر رہا ہے،یہ کہنا کہ آپ کسی ادارے پر تنقید نہیں کر سکتے یہ بھی درست نہیں، الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ نے موقع دیا تھا کہ وہ اس الیکشن میں ٹیکنالوجی استعمال کر سکے جو اس نے نہیں کی، اس پر تنقید کرنا ہمارا حق ہے۔


