پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح کوئٹہ میں بھی مہنگائی بے قابو،ہفتے میں مہنگائی کی شرح 15فیصد سے بڑھ گئی
کوئٹہ:عملی اقدامات کے فقدان کی وجہ سے حکومتی دعوے بے سودثابت ہوچکے ہیں، ملک کے دیگر شہروں کی طرح کوئٹہ میں بھی مصنوعی مہنگائی کاجن بے قابوہوگیاہے، ایک ہفتے میں مہنگائی کی شرح 15فیصدسے بڑھ گئی، ضلعی انتظامیہ اورپرائس کنٹرول کمیٹیاں منظرعام سے غائب ہیں، سفیفپوش افراداورمتوسط طبقے کی قوت خریدجواب دے چکی، عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ رمضان المبارک کے دوران لوگوں کوسستے داموں اشیاء خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ان کی مشکلات کاازالہ ہوسکے۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں 0.16فیصداضافہ ہواہے جس کے بعد ملک میں مہنگائی کی شرح15035فیصدپرپہنچ گئی ہے، اعدادوشمارکے مطابق ایک ہفتے میں دالیں، آٹا، چینی، گھی، ٹماٹر، چکن سمیت 22اشیاء منگی ہوئی ہیں جبکہ7اشیاء کی میں قیمتوں میں کمی اور22میں استحکام رہا۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق چکن21روپے فی کلومہنگی ہوئی اوراوسط قیمت 259روپے86پیسے پرپہنچ گئی ہے جبکہ چینی کی فی کلو قیمت 59پیسے اضافے کے بعد99روپے ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آٹے کے 20کلو تھیلے کی قیمت میں 9.72روپے اضافہ ہوا، گھی 2.88روپے فی کلو، دال مسوایک روپیہ فی کلو جبکہ انڈے 61پیسے فی درجن مہنگے ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق کیلا1.49روپے، دہی 28پیسے فی کلو مہنگاہواہے۔ رپورٹ میں مزیدکہا گیا ہے کہ دال چنا، تازہ دودھ، چاول، مٹن اوربیف کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہواہے۔ ادارہ شماریاتکی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں لہسن16.42روپے، پیاز8.81روپے،اورآلو79پیسے فی کلو سستے ہوئے جبکہ ایل پی جی سلنڈرکاگھریلوسلنڈر9.48روپے سستاہواہے۔ کوئٹہ میں آٹے گھی کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی اوراشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں توازن برقرار نہیں رہ سکا۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رمضان المبارک کے دوران اشیاء خوردونوش کی سستے داموں فراہمی کویقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ان کی مشکلات کاازالہ ہوسکے۔


