ٹریکٹرز فیکٹری مالکان نے بھی غیر معیاری ٹائرز کے استعمال سے غریب کسانوں کو لوٹنا شروع کر دیا

اسلام آباد: ٹریکٹرز فیکٹری مالکان نے بھی غیر معیاری اور ناقص ٹائرزکے استعمال سے غریب کسانوں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے اور فی ٹریکٹر 70ہزار روپے تک ناجائز منافع کمانے میں مصروف عمل ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خوراک و زراعت نے اس بھاری کرپشن پر باقاعدہ غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 90ہزار ٹریکٹرز تیار کئے جاتے ہیں جبکہ ٹریکٹرز فیکٹری مالکان ناقص مال سے تیار کردہ ٹائروں کے استعمال کرکے فی ٹریکٹر 70ہزار روپے تک کماتے ہیں اور ہر سال اربوں روپے کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے خوراک و زراعت نے غریب لوگوں کو اس لوٹ مار سے بچانے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ قائمہ کمیٹی کے نوٹس میں یہ بات آئی ہے کہ فیکٹر مالکان ٹریکٹروں میں جنرل کمپنی کے ٹائر لگانے کے بجائے پینتھر کمپنی کے ٹائر لگا رہی ہے جو غیر معیاری تصور کئے جاتے ہیں حالانکہ حکومت نے فی ٹریکٹر ہزاروں روپے سبسڈی بھی دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ پاکستان میں 8ٹریکٹر کمپنیاں ہیں لیکن سب سے بڑی کمپنی ملت ٹریکٹرز لاہور ہے جو اپنے ٹریکٹروں میں پینتھر ٹائر لگا کر اربوں روپے کسانوں سے لوٹنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ملت ٹریکٹر سالانہ 20ہزار سے زائد ٹریکٹرز بناتی ہے اور غیر معیاری ٹائرز کی تنصیب سے فی ٹریکٹر70ہزار روپے اضافی کما رہی ہے اور اس طرح ہر سال ڈیڑھ ارب روپے کے لگ بھک ناجائز طریقہ سے کسانوں کی جیبوں سے نکالتی ہے۔ پاکستان میں فیکٹری مالکان کو ہینڈل کرنے کی ذمہ دار وزارت پیداوار ہے جو ملک میں اشیاء کی معیار پر تیار کئے جانے کے کام کو ریگولیٹ کرتی ہے لیکن ملت ٹریکٹرز کے ساتھ وفاقی وزیر حماد اظہر کے قریبی مراسم ہیں اور حماد اظہر بھی اسی دیدہ دلیری سے ہونے والی کرپشن پر خاموش تماشائی دکھائی دے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر حماد اظہر کی توجہ جب اس کرپشن اور کسانوں کو لوٹنے کی طرف دلوائی تو انہوں نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا تاہم کسان تنظیموں نے ملت ٹریکٹرز کے علاوہ دیگر فیکٹریوں کے مالکان کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کے اعلان کا بھی امکان ہے۔ جبکہ قائمہ کمیٹی بھی اس اہم کرپشن سکینڈل پر اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے۔ تاکہ کسانوں کو اس فیکٹری مالک کی ناانصافی سے بچایا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں