میانمار میں فوجی کارروائی کے خلاف سلامتی کونسل کی مذمتی قرارداد منظور

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے میانمار میں ”مسلسل بگڑتی صورت حال“ پر ”انتہائی تشویش“ کا اظہار کیا ہے۔ چین نے تاہم مذمتی قرارداد میں سخت الفاظ استعمال کرنے سے روک دیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد سے مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال اور فوجی کارروائیوں میں سینکڑوں عام شہریوں کی ہلاکت کی سخت مذمت کی۔

برطانیہ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر دو دنوں تک چلنے والی بحث کے بعد جمعرات کو سلامتی کونسل کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے،”سلامتی کونسل کے اراکین میانمار میں مسلسل بگڑتی صورت حال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال نیز بچوں اور خواتین سمیت سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کی سخت مذمت کرتے ہیں۔“

سلامتی کونسل کی طرف سے جاری حتمی بیان میں قرارداد کے اصل مسودے کے برخلاف نرم لہجے کا استعمال کیا گیا ہے۔ اصل مسودے میں ”اراکین مزید اقدامات پر غور کرنے کے لیے تیارہیں“ کے الفاظ تھے جس سے میانمار کے خلاف بین الاقوامی پابندیا ں عائد کرنے کا امکان موجود تھا۔ تاہم دو دنو ں تک چلنے والی گرما گرم بحث کے بعد چین نے سخت الفاظ استعمال کرنے سے روک دیا۔
جمہوری طورپر منتخب حکومت اور سویلین لیڈر آنگ سان سوچی کو یکم مئی کو اقتدار سے برطرف کرنے کے بعد سے ہی میانمار کی فوجی جنتا کو روزانہ عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ فوج مظاہروں کو روکنے کے لیے انتہائی سختی برت رہی ہے۔ فوج کی ان ظالمانہ کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں شہری مارے جا چکے ہیں۔
عالمی برادری نے گو کہ فوجی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے تاہم چین نے انتہائی محتاط الفاظ میں بیان دیا ہے جس میں میانمار میں استحکام کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
سلامتی کونسل کی بدھ کے روز بند کمرے میں ہونے والی میٹنگ کے دوران میانمار کے لیے اقوا م متحدہ کے خصوصی سفیر نے متنبہ کیا کہ میانمار کو ”ایک غیر معمولی سطح“ پر خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کرسٹین شرینر برجینر نے سلامتی کونسل سے کہا”اگر ہم ان کی طرف سے بات چیت کے لیے رضامند ہونے کا انتظار کرتے رہے تو نہ صرف زمینی صورت حال ابتر ہوجائے گی بلکہ خونریزی کا بھی خدشہ ہے۔“
خیال رہے کہ گزشتہ دو ماہ سے جاری تشدد کے واقعات میں پانچ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم چالیس بچے بھی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں