لورالائی، دکی، تمبو، نوشکی و دیگر علاقوں سمیت صوبے بھر میں احتجاجاً روڈ بلاک

لورالائی:آل ملازمین گرینڈ الائنس کی کال پر ٹریفک دوجگہوں واپڈا آفس اور ڈیرہ بائی پاس روڈ مکمل بلاک رہا جبکہ علاقہ کچھ عمقزئی کے زمینداروں نے درگئی سرگڑہ کے مقام پربجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف روڈ بلاک کئے رکھا جسکی وجہ سے مسافروں ڈائیومالکان ٹرک مالکان اور دیگر چھوٹی بڑی ٹرانسپورٹروں کو شدید مشکلات سے دو چار ہونا پڑا عوامی حلقوں،مسافروں اور ٹرانسپورٹ مالکان نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں روڈ بند کرنا ایک معمول بن چکا ہے کسی کا ٹریکٹر یا گائے چوری ہو جائے وہ نیشنل ہائی وے روڈ بلاک کر دیتا ہے اسکو راہ چلتے مسافروں مریضوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا عوامی حلقوں نے کہا کہ پنجاب یا دیگر صوبوں میں کسی کا باپ بھی نیشنل ہائی وی روڈ بلاک کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تو بلوچستان میں ایسا کیوں ہے جوصوبائی حکومت یا ضلعی حکومتیں انکے سامنے بے بس ہیں عوامی حلقوں نے کہا کہ احتجاج کرنے کے اور بھی سینکڑوں طریقے ہیں روڈوں کو بلاک کرکے مسافروں کو تنگ نہ کیا جائے اور اسکے لئیے کوئی قانون پاس کیا جائے اور روڈ بلاک کرنے والوں کو آڑھے ہاتھوں لیا جائے۔تمبو:آل ملازمین گرئینڈالائینس کے مرکزی کال پر ڈیرہ مرادجمالی میں بھی احتجاجی ریلی نکال کر ملازمین نے ڈی سی چوک کے مقام پر سندھ بلوچستان قومی شاہراہ کو کئی گھنٹے تک دھرنا دیکر بلاک کردیا احتجاجی کی قیادت کنوئنر گرئینڈ الائنس نصیرآباد رئیس پیر محمد سیال نے کی جس میں مختلف محکموں کے درجنوں ملازمین اور سیاسی جماعتوں کے لیڈران،عہدیداران نے بڑی تعداد میں شرکت کی جس کے سبب قومی شاہراہ کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑااحتجاجی دھرنے میں سیاسی وقبائلی رہنماء میرشوکت بنگلزئی،حاجی شیرکھیازئی،سنی تحریک کے صوبائی رہنماء مولانا نواب دین ڈومکی،ضلعی صدر وڈیرہ نصراللہ نیچاری،بی این پی کے کامریڈ کریم مینگل،جمعیت علماء اسلام کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی نظام الدین لہڑی،ضلعی امیر مولانا بشیراحمد جمالی،نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر جاگن خان مغیری،کامریڈ تاج ؎بلوچ،عبدالرزاق بلوچ،کسان پارٹی کے ماما عبدالستار بنگلزئی،سمیت دیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں کے لیڈران وعہداران ملازمین کے ساتھ یکجہتی کے لئے دھرنے میں شرکت کی احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے حاجی نظام الدین لہڑی،مولای نواب دین ڈومکی،کامریڈ کریم مینگل،رئیس پیرمحمدسیال،ماماعبدالستار بنگلزئی،عبدالرزاق بلوچ،حامدگولہ،بابو سکندر گورشانی،عبداللہ رند،سید سجاد علی شاہ،محمدصادق عمرانی،ممتاز علی عمرانی،علی احمدماندائی،محمدیاسین ڈومکی،مظفر علی کاسی،اور محمدیعقوب لہڑی سمیت دیگر مقررین نے خ طاب کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملازمین کی تنخواہوں میں 25فیصد اضافہ نہ کرکے ملازم کش پالیسی پر عمل پیرا ہیں صوبہ بلوچستان ایک غریب صوبہ کسی بھی صورت میں نہیں ہے سیندک،سونا چاندی جیسی قیمتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہونے کے باوجود وزیراعلی بلوچستان ہمارے صوبہ کو غریب صوبہ قرار دے رہے ہیں جو کہ صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے صوبے کے حکمرانوں کی نااہلی کے سبب صوبے سے ہرسال اربوں روپے وفاق کو واپس لیپس کیئے جارہے ہیں مگر ملازمین کو دینے کے لئے صوبے کے حکمرانوں کے پاس کچھ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے وزیراعلی بلوچستان صوبے کے اندر ترقی کی بات کررہے ہیں پی ایس ڈی پی سے ہرسال اربوں روپے ترقیاتی اسکیمات کے نام پر نکالے جارہے ہیں مگر اس کے باوجود صوبہ پسماندگی کا شکار ہے انہوں نے کہاکہ ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمیں نوٹیفکیشن جاری نہیں کیاجاتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں