ایرانی بارڈر کی بندش،گوادر اور تربت میں ریلیاں

تربت (نمائندہ انتخاب) تربت، ایرانی بارڈرزکی بندش، فورسزکی بے جا سختیوں اور تیل بردارگاڑیوں کوتنگ کرنے کے خلاف تربت میں احتجاجی مظاہرہ کیاگیا،بارڈر متاثرین ایکشن کمیٹی اورتربت سول سوسائٹی کی جانب سے ریلی اور مظاہرے میں پاک ایران بارڈر پر تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد اوران کے عزیز واقارب شامل تھے،تربت چوک پر احتجاجی مظاہرہ سے تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست، میرشہداددشتی، اسلم شمبے زئی، امین اللہ مندی، علی بخش دشتی، بی ایس اوپجار کے صوبائی جنرل سیکرٹری عابدعمر، مرکزی کمیٹی کے رکن نجیب ڈی ایم دشتی ودیگرنے خطاب کرتے ہوئے مکران سے متصل ایران بارڈر کی بندش پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں اور حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں ہے، پچھلے 18 دنوں سے ہزاروں لوگ سرحد کے دوسری طرف پھنسے ہوئے ہیں، ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں،انہوں نے کہا کہ ہماری کاروبار پہ قدغن لگانا ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں، ہمارے بارڈر کو بحال کرکے لوگوں کو عزت سے روزی روٹی کمانے کی اجازت دی جائے،ہم بارہا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمارے بارڈر جالگی، گرے بن کور، دشتک، کہیر توک، عبدوئی بارڈر کو علاقائی عوام کی سہولت کے لیے کھولا جائے مگر ہمارے مطالبات پہ کوئی کان نہیں دھرتا انہوں نے کہاکہ یہ ہمارا آج علامتی احتجاج ہے اگر ہمارے مطالبہ پرتوجہ نہیں دی گئی تو سخت احتجاج پرمجبورہوں گے، انہوں نے کہاکہ یہاں روزگارکے ذرائع نہیں ہیں، فیکٹری، صنعتیں اورکارخانے نہیں ہیں، یہ علاقہ ذرعی علاقہ بھی نہیں، سرکاری ملازمتیں بھی نہیں ہیں، روزی روٹی کا واحد اوراہم ذریعہ بارڈر سے وابستہ ہے مگر بارڈر کو بند کردیاگیا ہے جس سے عوام فاقوں پرمجبورہیں انہوں نے کہاکہ منگل کے روزاحتجاجاًچائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کو تربت کے مقام پر بلاک کیاجائے گا۔گوادر (بیورورپورٹ) کنٹانی بارڈر کی بندش کے خلاف لوگ سراپا احتجاج بن گئے۔ روزی روٹی چھین لینا قرین انصاف نہیں۔معاشی ناکہ بندی دشمن ملک کا کیا جاتا ہے۔ اپنے شہریوں کا معاشی استحصال احساس محرومیوں کو جنم دیتا ہے۔ کوسٹ گارڈز اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔ مظاہرین کا مطالبہ۔ کنٹانی بارڈر ھور کے متاثرین نے کاروبار پر بندش کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے ڈھور گھٹی چوک سے احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی سید ظہورشاہ ہاشمی ایونیو سے ہوتے ہوئے کوسٹ گارڈز کیمپ کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں سیکڑوں گاڈیاں اور موٹرسائیکلیں شامل تھیں۔ ریلی کے شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھائے رکھے تھے۔ متاثرین کے احتجاجی ریلی میں مختلف سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت دیگر مکاتب فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ ریلی کے شرکاء نے کئی گھنٹوں تک کوسٹ گارڈز کیمپ کے سامنے دھرنا دیا جس کی وجہ سے مین شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوکر رہ گئی۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ کنٹانی بارڈر ھور کی بندش کی وجہ سے ضلع گوادر کے ہزاروں خاندان کا ذریعہ معاش متاثر ہوگیا ہے، پٹرول کی ترسیل بند ہونے کے نتیجہ میں ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے جس کا اثر ماہی گیری کے شعبہ سمیت زندگی کے دیگر شعبہ جات پر بھی پڑا ہے۔ لیکن اس تمام صورتحال کے باوجود کوسٹ گارڈز کا رویہ نہیں بدلاہے جو افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق ہمارے احتجاج کا رخ کوسٹ گارڈز کے خلاف ہوگیا ہے روڑوں پر نکلنا ہمارا شوق نہیں اور نہ ہی ہم تخریبی ذہن رکھتے ہیں لیکن جب منہ سے روٹی کا نوالہ چھیننے کی کوشش کی جائے تو رد عمل فطری بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکران کے دیگر بارڈر پر کاروبار کی اجازت ہے لیکن گوادر جو سی پیک کا مرکز ہے اور تبدیلیوں کا نقیب بننے جارہا ہے یہاں کے لوگ اپنا معاش بچانے کے لئے چیخ و پکار کررہے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع گوادر کا ایک بہت بڑا خطہ بارڈر سے منسلک ہے اور یہی بارڈر صدیوں سے معاش کا مستند ذریعہ بھی ہے، اگر بارڈر کی بندش متبادل روزگار کی فراہمی یا صنعت کے قیام سے ہوتی تو ہمیں احتجاج کی ضرورت پیش نہیں آتی جب روزگار کے متبادل ذرائع ہی ناپید ہوں تو ہم کہاں سے کمائیں اور کھائیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ناکہ بندی دشمن ملک کا سنا ہے لیکن اس کا اطلاق اپنے شہریوں پر کرکے کیا پیغام دیا جارہا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدارا حالات کو اس نہج پر مت لیجائیں کہ اس سے احساس محرومیاں جنم لیں۔ کوسٹ گارڈز اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے ایک ایسا اسٹریٹجی بنائے تاکہ غم روزگار کو کم کیا جاسکے۔ اگر ہمارے مطالبہ پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو آئندہ کا لائحہ عمل مزید سخت ہوگا۔ مقررین میں کاروباری شخصیت شمس الحق کلمتی، معروف سیاسی و سماجی شخصیت میر ارشد کلمتی، جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا ہدایت الرحمن، ضلعی امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا عبدالحمید انقلابی، نیشنل پارٹی کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ممبر آدم قادربخش، بی این پی (مینگل) کے سینئر رہنما حسین واڈیلہ، بی این پی (عوامی) کے مرکزی رہنماء ایڈوکیٹ سعید فیض، صدر بی این پی (مینگل) کہدہ علی، سابقہ چیئرمین میونسپل کمیٹی عابد رحیم سہرابی، اے پی کے رہنماء سابقہ وائس چیئرمین ہوت نعمت اللہ، ن لیگ کے رہنما عثمان کلمتی، پی پی پی کے رہنماء یوسف فریادی اور بی این پی (مینگل) جیونی کے رہنماء اکرم شہزادہ شامل تھے۔ بعد میں ریلی پر امن طورپر منتشر ہوگئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں