مولانا بتائیں کس نے لانگ مارچ کو استعفوں سے نتھی کیا، پی پی کا فضل الرحمان سے سوال
اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمان مفاہمت چاہتے ہیں تو پہلے بتائیں کہ کس کے کہنے پر لانگ مارچ کو استعفوں سے نتھی،مولانا آگاہ کریں کہ پی ڈی ایم کے ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے، مولانا پی ڈی ایم نام کے سیاسی اتحاد کو سیاسی پارٹی نہ بنائیں،ن لیگ ہر پارلیمانی عہدہ اپنے پاس رکھ کر دوسری سیاسی جماعتوں پر اپنا ایجنڈا مسلط نہیں کرسکتی،یہ کیسی منطق ہے کہ پی پی کے استعفے حلال اور ن لیگ کے استعفے حرام ہیں۔منگل کو پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان 2002 کی اسمبلی میں پی پی کی اکثریت کے باوجود خود اپوزیشن لیڈر بن گئے تھے،اگر مولانا فضل الرحمان مفاہمت چاہتے ہیں تو پہلے بتائیں کہ کس کے کہنے پر لانگ مارچ کو استعفوں سے نتھی کیا،مولانا فضل الرحمان آگاہ کریں کہ پی ڈی ایم کے ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا پی ڈی ایم نام کے سیاسی اتحاد کو سیاسی پارٹی نہ بنائیں، سیاسی جماعتوں کے ضوابط سیاسی اتحاد پر لاگو نہیں ہوتے،تعجب ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے علم میں نہیں کہ پی پی اور اے این پی کے خلاف شوکاز نوٹس کو جاری کرنے کے بعد لیک کیا گیا،اکثریتی جماعت کا حق ہے کہ وہ ایوان بالا و زیریں میں اپنا اپوزیشن لیڈر لائے۔انہوں نے کہا کہ پی پی نے قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت ہونے کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر کے لئے ن لیگ کی حمایت کی،ن لیگ کے پاس اپوزیشن لیڈر اور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی صورت میں پہلے ہی دو بڑے پارلیمانی عہدے ہیں،ن لیگ ہر پارلیمانی عہدہ اپنے پاس رکھ کر دوسری سیاسی جماعتوں پر اپنا ایجنڈا مسلط نہیں کرسکتی،یہ کیسی منطق ہے کہ پی پی کے استعفے حلال اور ن لیگ کے استعفے حرام ہیں۔


