کوئٹہ میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہیں، جمعیت علماء اسلام
کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے صوبائی بیان میں صوبائی حکومت کی جانب سے کوئٹہ میں ہفتے میں 2دن کاروباری مراکز بند کرنے سمیت سمارٹ لاک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کو روزگار دینے کی بجائے ان سے روزگار چھین رہی ہے، کاروباری طبقہ پہلے ہی کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے پریشان حال ہے، کورونا کی وباء کی آڑ میں لاک ڈاؤن اور پابندیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ معاشی حالات کی بہتری کے لئے کاروباری طبقے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور تاجروں کو آسان اقسان پر بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے ہفتے میں 2روز کاروباری مراکز بند کرنا باعث افسوس ہے حالانکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کاروباری اور زمینداروں کو ریلیف فراہم کرے مگر اب لاک ڈاؤن کے نام پر کاروبار بند کرکے غریب عوام سے دو وقت کی روٹی چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے ایسے حالات میں جمعیت علماء اسلام خاموش نہیں رہے گی۔ حکومت ماہ رمضان میں سستے بازاروں کا انعقاد کرکے غریب کو سہولتیں فراہم کرے۔ 5روزے گزرنے کے باوجود بھی اب تک سستے بازاروں کا انعقاد نہ ہونا حیران کن ہے سستے بازاروں کی عدم موجودگی سے مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ کرکے رکھ دی ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ حکومت سمارٹ لاک ڈاؤن کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لے کیونکہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ حکومت صرف اور صرف اپنی نااہلی کو چھپانے کی کوشش ہے، رمضان المبارک کے مہینے میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ عوام دشمنی پر مبنی ہے جسے فوری طور پر واپس لینے کی ضرورت ہے۔


