قومی اتحاد میں رخنہ ڈالنے والوں کےلیئے قونسل میں جگہ نہیں،بی ایس سی ملتان

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کے مرکزی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان قومی اثاثہ ہے جس نے بلوچ وحدت کے تمام طلباء کو آپس میں جوڑ رکھا ہے
ایتھنک اتحاد (نسلی و تقافتی اتحاد) قومی بقاء و اتحاد کیلئے ضروری شرط ہے یہ محض سمتھ کے خیالات نہیں بلکہ یہ عالمگیر سچائی ہے جس سے انکار ممکن نہیں
ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کونسل کی اتحادو و تنظیم اور جدوجہد اس لیے بھی کھٹک رہی ہے کہ حال ہی میں اس کونسل نے ایک عظیم جدوجہد کی بنیاد رکھی جس میں ملتان میں چالیس روزہ کیمپ اور ملتان سے لاہور پیدل مارچ طلباء تاریخ کی سب سے بڑی جدوجہد کی مثالیں ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ عناصر اس سے خوفزدہ ہیں اور عیدو جیسے کرداروں کے ذریعے قومی اتحاد و اتفاق کے مظہر کونسل کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں

مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے یک وحدتی جغرافیہ کو سکیڑنے کا کام کرنے والے تقسیم در تقسیم کی پالیسی اپنا کر بلوچ عوام کو غیر منظم و غیر مجتمع رکھنے میں بھی کامیاب ہوتے رہے کسی سوچ کو پنپنے سے باز رکھنا یاکسی قوم کو ایک جھنڈا تلے جمع ہونے سے روکنا ہر دور کے آقاؤں کا وطیرہ رہا ہے مگر بدقسمتی سے بلوچ قوم کی توانائیاں بلوچ فرزندوں کی ہی اناپرستی کی بھینٹ چڑھتی رہی اور وہ عیدو کی شکل میں آج بھی ہمارے سامنے زندہ و جاوید ہیں
بیان کے آخر میں کہا ہے کہ اس چیز کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ قومی مفاد کے خلاف کام کرنے والے ایسے کرداروں کو  نہ تاریخ معاف کرے گی نہ ہی یہ قوم کے خیر خواہ ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ان کی کونسل میں کوئی گنجائش ہے
اورکونسل کے آئین و منشور کیخلاف کام کرنے اور اپنی الگ غیرآئینی خود ساختہ کابینہ تشکیل دے کر عہدیدار بننےپر ہم
حماد ملغانی,اورنگزیب کھیتران,سجاول کھیتران,جلال جمالی,فرید بلوچ,راشد بلوچ,احسن بنگلزئی,شیراز مری,خالد بلوچ,نعمان شاہ کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں جن کی وجہ سے کونسل کے تمام ممبرز کو دلی طور پر صدمہ پہنچا ہے
واضح رہے اس گروہ کے سرغنہ ”حماد بلوچ “ جیسے لوگ گزشتہ کئی سالوں سے سلیکشن کے وقت قبائلیت ،علاقائیت پرستی اور نام نہاد لسانیاتی تنازعات کے بیچ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان میں بونے کی کوشش میں ملوث رہے ہیں اوراب محض عہدوں کےلیے انہوں نے تقسیم کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ قوم کےسامنے ہیں اور قوم بخوبی جانتی ہے کہ وہ قوم کے کتنے مخلص ہیں اور کہاں تک قوم کے لیے یہ کام کریں گے ؟
اور اس بیان کے ذریعے ہم ان کےغیر سنجیدہ اور سیاسی نابالغی کو قوم کے سامنے عیاں کرتے ہوئے قوم سے کہتے ہیں کہ ان کی کارگردگی بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل میں محض تقسیم اور انتشار کے سوا اورکچھ نہیں اور ان تمام افراد کابلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان سے کسی قسم کا تعلق نہیں ہے لہذا!!ان سے کونسل کےمتعلق کسی قسم کا رابطہ نہ کیاجائے بصورت دیگر اپنے معاملات کےخودذمہ دار ہوں گے ۔۔!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں