حکومت کا انتخابی اصلاحات کیلئے الیکشن ایکٹ میں 49 تبدیلیاں لانے کا اعلان
اسلام آباد:وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات کیلئے الیکشن ایکٹ میں 49 تبدیلیاں لانے کا اعلان کردیا، وزیراعظم عمران خان کے مشیر پارلیمانی امور پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے الیکٹورل ریفارمز کا راستہ اپنایا ہے، انتخابی اصلاحات میں الیکشن ایکٹ کی 49 شقو ں میں ترمیم ہوگی۔اسلام اباد مین وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹر مشین کے لیے سیکشن 103میں ترمیم کی تجویز ہے، سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کیلئے دو ریفارم تجویز کی ہیں، سیاسی جماعتوں کو پابند کررہے ہیں کہ اپنے سالانہ کنونشن منعقد کریں، تجویز ہے سیاسی جماعتوں کی 10ہزار ممبرز ہونے پر رجسٹر کیاجائے، اس کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوں کو ہم ووٹ کا حق دینے کیلئے ریفارم لارہے ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ پولنگ اسٹاف افسران پر اگر کسی کو اعتراض ہوگا تو وہ اسے 15 دن میں چیلنج کرسکے گا، حلقہ بندیاں نادرا کے ڈیٹا کے مطابق کریں گے، سینیٹ الیکشن اوپن کرانے کے لیے ترامیم لارہے ہیں، ترامیم میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی ایک جماعت کے مفاد میں ہو، تین اصلاحات کے بارے میں ساری سیاسی جماعتوں نے لکھ کر بھی دیا، دھاندلی کی بات کرنے والی اپوزیشن جماعتوں نے اب تک کسی بھی ٹریبونل میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے الیکشن اصلاحات کے لیے براہ راست اپوزیشن کو دعوت دی کیوں کہ انتخابی اصلاحات اہم مسئلہ ہے جس کی وجہ سے آئینی اداروں پر عدم اعتماد ضرور پیدا ہوا، انتخابی اصلاحات پر سول سوسائٹی،بارکونسلز اور پریس کلبز کوبھی اعتماد میں لیں گے، 2017میں انتخابی اصلاحات لائی گئیں،2018میں انگلی اٹھائی گئی، الیکشن ریفارمز کا ایجنڈا وکلاکے سامنے رکھیں گے، کیوں کہ 2013کے انتخابات کو تمام جماعتوں نے آر او کا الیکشن قرار دیا۔ اپوزیشن لیڈر سے متعلق بابر اعوان نے کہا کہ شہباز شریف نے کہا پارلیمنٹ کو تالا لگا دیا گیا، شہباز شریف بتائیں کتنے اجلاسوں میں شرکت کی؟ شہبازشریف مختلف اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے۔


