عید کے سیزن میں چار دن کا لاک ڈاؤن قبول نہیں کر سکتے، انجمن تاجران بلوچستان
کوئٹہ؛ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، حضرت علی اچکزئی، قیوم آغا، میر یاسین مینگل، سعداللہ اچکزئی، حاجی ہاشم کاکڑ، عبدالخالق آغا، حاجی ظفر کاکڑ، حاجی حمداللہ ترین، دوست محمد آغا، حاجی خدائے دوست، خرم اختر، نعمت آغا، حاجی ودان علی کاکڑ، عطامحمد کاکڑ، ظہور آغا حاجی محمد یونس عبدالعلی ودیگر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ضلعی انتظامہ سے گزشتہ ایک ماہ سے کوششوں کے نتیجہ میں یہ فیصلہ ہوا کہ ہفتہ اور اتوار کو تمام کاروبار مکمل طور پر کھولا رہے گاجبکہ 8تا 16 مئی تک کے لاک ڈاؤن پر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان اپنے موقف پر قاہم ہے اور کسی صورت باقی چار دن لاک ڈاؤن کو قبول نہیں کرینگے کیونکہ عید کا سیزن ہے اور غیر فطری لاک ڈاؤن پر تاجر برادری عمل کرنے سے قاصر ہے انتظامیہ کی زور زبردستی تصادم کی طرف لے جائے گی قبل از وقت لاک ڈاؤن کا اعلان کر کے رواں ہفتے مارکیٹوں کی بھیڑ کئی گنا بڑھ چکی ہے رواں ہفتہ میں کرونا کے تمام ایس و پیز غلط حکومتی اقدام کی وجہ سے پامال ہوچکے ہیں حکومت لاک ڈاؤن کی تجویز فوری واپس لے تاکہ مارکیٹوں کے موجودہ حالات نارمل ہوں عوام جوق در جوق لاک ڈاؤن کے خوف سے مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں ناقص حکمت عملی نے تاجر اور عوام دونوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیاحکومت ایک دفعہ پھر تاجروں کو مورد الزام ٹہرا کر فرار ہونے کی کوشش کررہا ہے ہم کب تک حکومت کی نااہلیوں کا بوجھ اٹھائیں گے تاجروں کے ساتھ ملکر عید شاپنگ کی ہنگامی منصوبہ بندی کی جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ اپنی پھرتیاں کنٹرول میں کرے انتظامیہ کا منشا ہے مال بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے پائے اگر حکومت کی نیت صاف ہے تو ھمارے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل بنائے ملک اور صوبے بھر میں کاروبار بند نہیں ہوگا کیونکہ ہم اس کے متحمل نہیں، ہمیں مالی امداد دیں، وظیفہ مقرر کریں اور کاروبار بند کروا لیں ہمیں بھوکا مار کر کاروبار بند نہیں کروایا جاسکتا ہماری تکلیف محسوس کرنا ہے تو عید پر اپنی تنخواہیں اور الانس بند کرکے دیکھ لیں خالی جیب آپکے گھروالوں نے آپ افسران کا داخلہ بند کردینا ہے زمینی حقائق کوسمجھنا ہوگا، معاشی مجبوریاں سب کے ساتھ ہیں چھوٹے تاجر کی معیشت کو زندہ درگور کریں گے۔


