خضدار، کرخ بھلونک واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 19جبکہ زخمیوں کی تعداد 48ہو گئی
خضدار:صوبہ بلوچستان کے علاقے خضدار کرخ بھلونک کے مقام پرزائرین کی بس کھائی میں گرگئی جس کے نتیجے میں 19افراد جاں بحق اور 48سے زائد زخمی ہوگئے جن میں بعض کی حالت نازک ہے،جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں،تمام افرادسندھ سے عرس میں شرکت کیلئے وڈھ آئے تھے اور عرس کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقے خضدار کرخ بھلونک کے مقام پرزائرین کی بس کھائی میں گرگئی جس کے نتیجے میں 19افراد جاں بحق اور 48سے زائد زخمی ہوگئے،حادثے کے نتیجے میں آصف، نظام الدین، اسد علی، حافظ ہاشم، علی مراد، عاطف علی، نثار، جاویدعلی، زین العابدین، عاشق علی، سہیل، جنید احمد، احسان علی، امان اللہ اور عبدالمجید شامل جبکہ ایک شخص کی شناخت نہ ہوسکی،جاں بحق ہوگئے، حادثے میں زخمی ہونے والوں میں محمد خان، بلال احمد، کامران، کلیم اللہ، اسد، حافظ بلال، محمد امین، حافظ قربان، عرض محمد، حافظ محمد کامل، شفیق احمد، نثاراحمد، عبدالقادر، مختاراحمد، محمد سومار، رفیق احمد، حامد علی، عبدالغفار، نثار احمد، گہور خان، منیر احمد، نوراللہ، غلام مصطفی، حافظ غلام مرتضی، نورالدین، نورنبی، عرفان، محمد زمان، یاسین، اللہ بچایا، اویس، محمد یاسین، غلام، سجاد، رحمت اللہ، اللہ بچایا، دین محمد، محمد یعقوب، حاجی دین محمد، ابرار جبکہ دوسروں کی شناخت نہ ہوسکی شامل ہیں۔ڈپٹی کمشنر خضدار میجر)ر(بشیر احمد کے مطابق حادثہ خضدار سے تقریبا 40 کلومیٹر دور تحصیل کرخ میں خضدار رتوڈیرو شاہراہ پر بھلونک کے مقام پر پیش آیا، جہاں ایک بس تیز رفتاری کی وجہ سے موڑ کاٹتے ہوئے ڈرائیور سے بے قابو ہوکر کھائی میں جاگری۔ ڈپٹی کمشنر خضدار نے بتایا کہ بس زائرین سے کچھا کچھ بھری ہوئی تھی اور اس کی چھت پر بھی لوگ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے حادثے میں 19 اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں کی نعشوں اور 45 زخمیوں کو خضدار ٹیچنگ ہسپتال اور کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں 10 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خضدار ڈاکٹر سومر بلوچ کے مطابق 17 زخمیوں کو سر اور جسم کے دیگر حصوں میں شدید چوٹیں آئی ہیں جنہیں سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا۔ڈپٹی کمشنر بشیراحمد بڑیچ نے بتایا کہ جاں بحق و زخمی افراد کا تعلق دادو سمیت سندھ کے مختلف علاقوں سے ہے جو خضدار کے علاقے وڈھ کاکا ہیر میں پیر عبدالقادر نقشبندی کے سالانہ عرس میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے۔


