خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا وقت اہم ضرورت ہے، ثناء بلوچ
کو ئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے اراکین اسمبلی ثنا بلوچ، زینت شاہوانی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں ضیا بلوچ، سلام خان، بہرام لہڑی و دیگر نے کہا ہے کہ اقلیتوں، خواتین اور مزدوروں کے حقوق سے متعلق موجود قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، مہذب معاشرے کی تشکیل، اقلیتوں اور خواتین کو برابر کی شہری سمجھنے اور ان کے حقوق کی پاسداری کے لئے عوامی سطح پر مثبت ذہن سازی کرنا ہوگی، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان بے روزگاری کے باعث در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، صوبائی حکومت نوجوانوں اور دیگر طبقات کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے ساتھ بھی ناانصافی کرتی چلی آرہی ہے جس کے خلاف کئی دن سے اپوزیشن اراکین سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ہارڈ بلوچستان کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب منعقدہ اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے کہا کہ اقلیت تو دور کی بات ہے بلوچستان میں اکثریت سے تعلق رکھنے والے افراد تک کو ان کے حقوق نہیں مل رہے، صوبے کے باصلاحیت اور تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، بروقت روزگار نہ ملنے کی وجہ سے آج سرکاری نوکری کے لئے عمر کی حد 42سال مقرر کیا گیا ہے حالانکہ اس عمر دنیا میں مختلف محکموں سے لوگ ریٹائرمنٹ کا سوچ رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں قانون سازی تو کی جاتی ہے مگر قوانین پر عمل درآمد ممکن نہیں کرایا جاتا، لیبر قوانین پر کوئی عمل درآمد نہیں ہورہا ہے مزدوروں سے قلیل تنخواہوں کے عیوض12سے 16گھنٹے تک مشقت لی جاتی ہے، قبائلی معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، بحیثیت اشرف المخلوقات انسانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کا تصور ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے،خواتین اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اس وقت بلوچستان کی آبادی کا 50فیصد سے زائد حصہ خواتین پر مشتمل ہے لیکن اس کے باوجود بھی خواتین کو کمزور سمجھا جاتا ہے، حقوق غصب کرنے کا تعلق اقلیت اور اکثریت سے نہیں بلکہ مائنڈ سیٹ سے ہیں، افریقہ کے ایک مسلم اکثریتی ملک کا سربراہ عیسائی تھا تاہم وہاں کوئی تفریق موجود نہیں تھا، ترقی اور مہذب معاشرے کی تشکیل ہزار سال میں بھی ممکن نہیں جب تک یہاں کے لوگوں کی مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں کی جاتی۔ مقررین نے کہا کہ یہاں مذاہب کے درمیان احسن سلوک پیدا کرنا چاہیے تاکہ ایک مہذب اور ترقی پسند معاشرے کی تشکیل ممکن بنائی جاسکے۔


