فیملی پارک کوہلو کرپشن کی نظر، کروڑوں روپے کا منصوبہ 7سال سے التواء کا شکار

کوہلو:مختلف حکومتوں کی جانب سے یوں تو ضلع کوہلو میں ترقی کے بلند و بانگ دعوے سننے کو ملتے ہیں مگر ڈھائی لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل کوہلومیں آج بھی شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری کے دور حکومت میں منظور ہونے والا فیملی پارک7سال گزار جانے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا ہے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس پارک کو دو سال کے قلیل مدت میں مکمل ہوکر عوام کے لئے کھولنا تھا تاہم کرپشن اور چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے فیملی پارک کا تعمیراتی کام7سال سے التواء کا شکار ہے جسکی وجہ سے جہاں عوام کے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے وہی ضلع میں بڑھتے کرپشن نے ترقی کے ثمرات کو عوام سے دور رکھا ہے باوثوئق ذرائع نے خبر رساں ادارے کے نمائندے کو بتایا کہ سابق ایکسین اور سب انجینئر نے ملی بھگت کرکے فیملی پارک کے کروڑوں روپے ہڑپ کئے ہیں اور یوں فیملی پارک کا تعمیراتی کام کچوے کی رفتار سے جاری ہے جو ہی صوبائی حکومت کے نمائندے یا دیگر نیب و اینٹی کرپشن کے تحقیقاتی نمائندے دورے کے لئے آتے ہیں تو کچھ دنوں کے لئے کام کو شروع کیا جاتا ہے مگر اس کے بعد کام کرنے والے لوگ منظر عام سے غائب ہوکر کئی سالوں تک تعمیراتی کام التواء کا شکار ہوجاتا ہے جبکہ اس حوالے سے مختلف ڈپٹی کمشنروں اور کمشنروں نے بھی کئی دورے کرکے پارک کو جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری گئے مگر مجال ہے کہ متعلقہ ٹھیکیدار نے ذرا سی عمل کیا ہوکیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے پیچھے بڑے معافیہ ہیں اور انہیں کچھ نہیں ہوگا دوسری جانب ضلع کے عوامی و سماجی حلقوں نے فیملی پارک کے تعمیراتی کام میں سست روی اور کرپشن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے بلوچستان کی حکومتیں دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں ترقی کا سفر یہ ہے کہ ایک پارک کو تعمیر ہونے میں 7سال گزار گئے ہیں اور اب مزید کتنے سال لگے گے کچھ نہیں معلوم ہے ضلع میں فیملی پارک کے علاوہ پبلک پارک بھی نہیں ہے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ پارک نہ ہونے کی وجہ سے بچوں اور نوجوانوں کا رجحان منفی کاموں کی طرف بڑھ رہا ہے صوبائی و ضلعی انتظامیہ کو چائیے کہ وہ فوری نوٹس لیکر نہ صرف فیملی پارک کے تعمیراتی کام کو جلد از جلد مکمل کروائیں بلکہ اس پروجیکٹ میں کرپشن کا نوٹس لیکر متعلقہ ٹھیکیداروں کو فوری سزادی جائے تاکہ وہ معاشرے میں کرپشن کرنے والوں کے لئے ایک مثال بن سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں