متحدہ اپوزیشن کے 19اراکین کی جانب سے ریکوزیشن اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع
کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے 19اپوزیشن ارکان کی جانب سے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی ریکوزیشن اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروادی گئی، پیر کو بلوچستا ن اسمبلی کے 19ارکان ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، ملک نصیر احمد شاہوانی، نصر اللہ زیرے، میر اکبر مینگل، مولوی نور اللہ، یونس عزیز زہری، میر حمل کلمتی، حاجی نواز کاکڑ، احمد نواز بلوچ، اختر حسین لانگو، حاجی زابد علی ریکی،اصغر علی ترین، شکیلہ نوید،سید عزیز اللہ،ٹائٹس جانسن اور زبیدہ اللہ داد کی دستخط کردہ اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی ریکوزیشن اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے بلوچستان اسمبلی کا استحقا ق اور اپوزیشن اراکین کو بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے کچلنے کے عمل، اپوزیشن کا استحققاق مجرو ح اور انہیں قتل کرنے کی سازش بلوچستان کے وسائل کو غیر آئینی،غیر قانونی طور پر غیر منتخب بلوچستان عوامی پارٹی کے ورکروں میں تقسیم کرکے پی ایس ڈی پی کا نام دینے، بلوچستان کے گزشتہ تین سال میں 200ارب کے قریب فنڈز خرچ نہ کرکے واپس کرنا بلوچستان کے عوا م کو اپنے حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے بلوچستان کا بجٹ بلوچستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق نہ بنانے، وزیراعلیٰ کا خود کہنا کہ ان کو بجٹ کا علم نہیں تھااپوزیشن کو بجٹ سے دور رکھا گیا بجٹ کہاں بنا کس نے بنایا محکمہ پی اینڈ ڈی بھی لاعلم ہے، بجٹ میں اپوزیشن تھانے پر احتجاج میں تھی جبکہ عوام کی ترجیحات کا گلہ گھونٹا گیا،حکومت آمریت اور بادشاہت سے ایک قدم آگے درندگی اور جنگل راج کے تحت چاپلوسی اور ضمیر کو مردہ کرنے کے لئے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے میر ٹ اور انصاف ختم ہونے سے آنے والے وقت میں کیا اثرات ہونگے، شہید عثمان کاکڑ کو خراج عقیدت پیش کرنے اور انکی شہادت کے محرکات اور صوبے پر اثرات کے موضوعا ت کو زیر بحث لایاجائے


