بلوچستان ہائی کورٹ میں جعلی ڈومیسائل سے متعلق دائر آئینی درخواستوں کی سماعت
کوئٹہ :بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس محمدکامران خان ملاخیل پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے سینئر قانون دان ساجد ترین ایڈووکیٹ ودیگر کی جانب سے جعلی ڈومیسائل سے متعلق دائر آئینی درخواستوں کی سما عت کی۔سماعت کے دوران ساجدترین ایڈووکیٹ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن اسفندیارخان کاکڑ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ،ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ طارق جاوید مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر پشین حضرت ولی کاکڑ سمیت دیگر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر پشین کی عدم پیشی پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے حکم دیاکہ آئندہ سماعت پر ڈی سی پشین مکمل رپورٹ کے ساتھ پیش ہوں بصورت دیگر ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائیگی سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ نے ڈومیسائل سے متعلق ضلعی انتظامیہ کا رپورٹ پیش کیا اور عدالت کوبتایاکہ قلعہ عبداللہ میں فیڈرل سیکرٹریٹ کے 66ملازمین جو گورنر سیکرٹریٹ بلوچستان میں ملازمت کررہے ہیں میں سے 24ملازمین کی ڈومیسائل کی تصدیق نہ ہوسکی جس کیلئے بذریعہ اخبارات اشتہارات شائع کئے گئے لیکن تین نوٹسز کے باوجود وہ پیش نہ ہوئے ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ نے عدالت کوبتایاکہ چمن تحصیل آفس میں آگ کی وجہ سے ریکارڈ جل گیاتھا جس پر عدالت کے بینچ نے حکم دیاکہ نوٹسز کے باوجود تصدیق نہ ہونے والے ڈومیسائل کو فوری طورپرمنسوخ کی جائیں سماعت کے دوران ساجدترین ایڈووکیٹ نے عدالت کوبتایاکہ نہ صرف وفاقی محکموں بلکہ صوبائی محکموں میں بھی جعلی ڈومیسائل/لوکلز کی تصدیق کی جائیں جس پر بینچ نے حکم دیاکہ تمام صوبائی محکموں میں جعلی ڈومیسائل/لوکلز کی بھی تصدیق کی جائیں۔بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے کیلئے ملتوی کردیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر ڈویژنل بینچ نے کوئٹہ ڈویژن،قلعہ عبداللہ اور پشین اضلاع میں جعلی ڈومیسائل سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی۔


