چمن، عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام عبیداللہ کاسی کے حق میں احتجاجی ریلی
چمن؛ عوامی نیشنل پارٹی ضلع چمن کے زیراہتمام عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ملک عبیداللہ کاسی کے اغوا کیخلاف ایک احتجاجی ریلی شہید اسد خان کے آفس کے سامنے سے نکالی گئی جس میں ضلع بھرسے بڑی تعداد میں چمن کے عوام اور کارکنوں نے شرکت کی احتجاجی ریلی شہرکے مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب چمن کے سامنے احتجاجی دھرنا میں تبدیل ہوئی احتجاجی دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی سنیئر نائب صدر گل باران افغان،امجد خان ایڈوکیٹ،حاجی صلاح الدین وطن یار،حاجی عبدالصادق کاریزوال،کلیم اللہ حکمت یار،گل باری مسلم پال،ماسٹر شراف الدین نے کہاکہ ملک عبیداللہ کاسی کے اغوا سخت ناروا عمل ہے جس نے پورے جنوبی پشتونخوامیں بے یقینی کی صورتحال پیداکی ہے اور عوام میں شدید غم وغصے کی لہر پھیل گئی ہے کیونکہ اس طرح کے ناروا عمل جاری ہے جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں انہوں نے مزیدکہاکہ عرصہ دراز سے اس طرح کے واقعات سے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماں کو ٹارگٹ کیاجارہاہے ملک عبیداللہ کاسی کااغوا روز اول سے باچاخان کے پیروکاروں کے ساتھ ظلم وزیادتی کاتسلسل ہے اور پشتونوں کو پس پشت ڈالنے کی کوشش ہے احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ ابھی تک اسد خان شہید اور عثمان خان کاکڑ شہید کی فاتحہ بھی ختم نہیں ہوا ہے کہ ملک عبیداللہ کاسی کا یہ انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جس کی اعلی حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مغوی ملک عبیداللہ کاسی کے بازیابی یقینی بنائے بصورت دیگر احتجاج کا سلسلہ اس سے شدت اختیار کرے گا جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور اعلی حکام ذمہ دار ہے انہوں نے مزیدکہاکہ پاک افغان سرحدپر روزگار کو واپس بحال کیاجائے اور پیدل آمدورفت کرنے والے مسافروں اور تاجروں کو سہولیات مہیا کیاجائے اس کے ساتھ ساتھ پیدل آمدورفت میں جاری مشکلات کو ختم کیاجائے احتجاجی مظاہرہ میں واقعہ کے خلاف قرار د اد پیش کی جس میں مغوی ملک عبیداللہ کاسی کا اغوا کی شدید الفاظ میں مذمت اور پوری بازیابی،پشتون وطن میں جاری بدامنی کی لہر اور اس کو ختم کرنے کا بروقت اقدامات،پاک افغان سرحد کی بندش اور اس پر مسافروں اور تاجروں کے پیدل آمدورفت کو غیر مشروط طورپر واپس پرانے طریقہ کارپر بحال کرنا اورپاک افغان سرحدپر پیکیج کی بحالی اس پر پوری عمل درآمد اور دیگر قراردادیں شامل تھے جس کو کارکنوں نے اور احتجاجی مظاہرہ کے شرکا نے ہاتھ اٹھاکر منظوری دی۔


