تحقیقات قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل کمیشن سے کرائی جائے، اگر کوئی تحقیقاتی کمیٹی بنتی ہے تو اسے ثبوت دینے کے لئے تیار ہیں،نصر اللہ زیرے
کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے سابق سینیٹرعثمان خان کاکڑ سے متعلق تعزیتی قراردادمتفقہ طورپرمنظور کرلی۔گزشتہ روزبلوچستان اسمبلی کا اجلاس 25منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی خدمات سے متعلق تعزیتی قرار داد پیش کرنے کی استدعا کی ایوان کی رائے سے ڈپٹی سپیکر نے انہیں قرار داد پیش کرنے کی اجازت دی بعدازاں نصراللہ زیرئے نے تعزیتی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان ملک کے عظیم سیاسی رہنماء پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری و صوبائی صدر شہید عثمان خان کاکڑ کی المناک شہادت کے سانحے کی مذمت کرتے ہوئے شہید رہنماء کی بیالیس سالہ سیاسی، جمہوری خدمات بالخصوص پشتونوں کے ساتھ ساتھ محکوم اقوام کے لئے بھرپور آواز بلند کرنے اور سینٹ میں موثر کردار ادا کرنے، ملک میں قوموں کی برابری، آئین وقانون کی بالادستی، جمہور و جمہوری اداروں کے استحکام، میڈیا و عدلیہ کی آزادی، بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی، پونم، پی ڈی ایم اور پشتونخوا رہبرموومنٹ میں پرافتخار کردار ادا کرنے اور خاص طو رپر ملک کے ایوان بالا میں چھ سال کے دوران ملک کے محکوم عوام کے لئے مثالی کردار ادا کیا جس کی ملک کی پارلیمانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی یہ ایوان شہید عثمان خان کاکڑ کو ان کی سیاسی وجمہوری خدمات پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتا ہے ان کی شہادت کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائیں۔قرار داد کی موزونیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے نصراللہ زیرئے نے عثمان خان کاکڑ کو ان کی سیاسی و جمہوری جدوجہد پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید عثمان کاکڑ نے زمانہ طالبعلمی سے ہی پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا پشتونخوا ایس او کے پہلے مرکزی سیکرٹری اول منتخب ہوئے پھر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری، صوبائی صدر اور آخرمیں مرکزی سیکرٹری کے عہدے پر رہ کر بھرپور سیاسی جدوجہد کی انہوں نے ملک میں بحالی جمہوریت کی ہر تحریک میں فعال کردار ادا کیا۔ جب وہ سینٹ کے رکن منتخب ہوئے تو انہوں نے نہ صرف پشتون قوم بلکہ ملک کی تمام محکوم قوموں کی آواز بلند کی حیات بلوچ کی شہادت، بلوچ مسنگ پرسنز، ساہیوال واقعے سمیت سندھ کے مظلوم عوام اور فاٹا کے عوام کی آواز بنے خیبرپشتونخوا میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے لوگوں کے لئے آواز بلند کی علی وزیر کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے اور نقیب اللہ محسود کی شہادت پر آواز بلند کی وہ ایک حقیقی عوامی رہنماء تھے جو بلاشبہ اکیسویں صدی کے بڑے رہنماؤں میں شمار ہوں گے 16جون کو جب بلوچستان اسمبلی کے باہر اپوزیشن ارکان احتجاج کررہے تھے تو انہوں نے یہاں آکر خطاب کیا اگلے روز ان کو ان کے گھر میں سرپر کاری ضرب لگائی گئی ڈاکٹروں کے مطابق ان کو یہ ضرب لگائی گئی تھی دو دن تک کوئٹہ میں وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد انہیں کراچی منتقل کیاگیا جہاں اکیس جون کو وہ شہید ہوئے ان کی شہادت کے اعلان پر پورے ملک سمیت پوری دنیا میں جمہوری تحریکیں اور جمہوریت پسند عوام سوگوار ہوئے جب کراچی سے ان کی میت کوئٹہ کے لئے روانہ ہوئی تو حب سے کوئٹہ تک شہرشہرقریہ قریہ سیاسی جماعتوں اور عوام نے ان کاشاندار استقبال کیا پشتونخوا ملی عوامی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی نیشنل پارٹی جمعیت علماء اسلام سمیت ان تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کاشکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے ایک بڑے رہنماء کی میت کا تاریخی استقبال کیا 23جون کو جب کوئٹہ سے مسلم باغ کے لئے روانہ ہوئے تو کچلاک پہنچنے میں چار گھنٹے لگے اور بمشکل شام کو مسلم باغ پہنچے میڈیا کے مطابق عثمان کاکڑ کا جنازہ ملک کی تاریخ کا بڑا جنازہ تھا اس ایوان کے توسط سے ہم شہید رہنماء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ان کی موت کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کا قیام تو عمل میں لایاگیا ہے لیکن اکثر کمیشنوں کی رپورٹ سامنے نہیں آتیں ہمارا مطالبہ ہے کہ شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت کی تحقیقات سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل کمیشن سے کرایا جائے پارٹی چیئر مین محمودخان اچکزئی نے واضح طو رپر کہا ہے کہ اگر کوئی حقیقی تحقیقاتی کمیٹی بنتی ہے تو اسے ثبوت دینے کے لئے تیار ہیں۔


