قلعہ عبداللہ کے نئے ہیڈ کوارٹر کیلئے نئے مقام کا تعین بلا جواز ہے، پشتونخواملی عوامی پارٹی

کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے بیان میں ضلع قلعہ عبداللہ کی دو حصوں میں تقسیم کے بعد ضلع قلعہ عبداللہ اور ان کے نئے ہیڈکوارٹر کے نام سے نئے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع قلعہ عبداللہ کا قیام 1994میں ہوا تھا اور4دسمبر1994کے نوٹیفکیشن نمبر 277A13کے مطابق ضلع قلعہ عبداللہ کا ہیڈکوارٹر ضلع قلعہ عبداللہ بازار قرار دیاگیا تھا اور چار مہینے تک ڈپٹی کمشنر ضلع قلعہ عبداللہ بازار کے دفتر میں ہی اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے اور اس کے بعد قلعہ عبداللہ میں ڈی سی آفس کا قیام بھی عمل میں آیا۔ اس دوران عارضی طور پر ضلع قلعہ عبداللہ کا ہیڈکوارٹر چمن شہر تبدیل کیا گیا اور اب چمن تحصیل پر مشتمل ضلع کے قیام کے بعد ضلع قلعہ عبداللہ کیلئے نئے ہیڈکوارٹر کا مقام نئے سرے سے متعین کرنا 1994کے نوٹیفکیشن نمبر 277A13 کی نفی ہے جبکہ قلعہ عبداللہ سٹی،میونسپل کمیٹی کے وجود کے ساتھ ساتھ تمام آبادی کا مرکز ہے قلعہ عبداللہ شہر میں ڈی سی آفس، اے سی آفس، جوڈیشل مجسٹریٹ آفس، پولیس تھانہ، ریلوے سٹیشن، ڈاکخانہ، گرڈ سٹیشن، سرکاری ونجی بینکس، انٹرکالج، بوائز ہائی سکول، گرلز ہائی سکول سمیت مختلف محکموں کے فعال دفاتر موجود ہیں۔اور ضلعی انتظامیہ کی اپنی زمین موجود ہیں اور متعلقہ عوام مزید زمین دینے کیلئے تیار ہیں۔ اور سب تحصیل دو بندی سے لیکر تحصیل گلستان نورک سلیمانخیل تک اور سید حمیدکراس سے لیکر قلعہ عبداللہ شہر تک واحد مقام قلعہ عبداللہ شہر ہے جو اس نئے ضلع کا سینٹر(مرکز)ہے۔ جبکہ اسی ضلع کی آبادی کی مکمل اکثریت قلعہ عبداللہ شہر کو ہی ضلع کا ہیڈکوارٹر قائم کرنے پر راضی ہیں۔ لہٰذاقلعہ عبداللہ ضلع کے نئے ہیڈکوارٹر کیلئے نئے مقام کا تعین بلاجواز، غیر قانونی اور ضلع بھر کے عوام کے درمیان بدنیتی پر مبنی ماحول پیدا کرنے کے سواکچھ نہیں۔ صوبائی حکومت عقل سلیم سے کام لیتے ہوئے اس نئے غلط نوٹیفکیشن کو واپس لیں اور قلعہ عبداللہ شہر میں موجود مختلف دفاتر سے استفادہ کرتے ہوئے 1994میں جاری کیئے گئے نوٹیفکیشن پر فوری طور پر عملدر آمد کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں