بلوچستان یتیم خانہ ہے استعماری طرز حکمرانی مزید چلنے نہیں دینگے ، ثناء بلوچ
ثناء بلوچ نے کہا کہ جون کا مہینہ پورے بلوچستان پر بہت بھاری گزرا ہے اسی مہینے میں عثمان خان کاکڑ شہید ہوئے بجٹ اجلاس کے موقع پر ہمارے اراکین کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے یہ ایوان جس میں آج ہم موجود ہیں اس کے قیام کے لئے ہمارے اکابرین کی بڑی قربانیاں ہیں جس امید کے ساتھ انہوں نے اس ایوان کے قیام کے لئے جدوجہد کی ان کو شاید یہ توقع بھی نہ ہوگی کہ اس ایوان کے گیٹوں پر بکتر بند گاڑیاں چڑھا کر اپوزیشن ارکان پر حملہ کیا جائے گا اپوزیشن رکن عبدالواحد صدیقی جو اس واقعے میں بری طرح زخمی ہوئے اور اس وقت بھی اسلام آباد میں زیر علاج ہیں مگر اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جس طرح گیٹ کو بکتر بند گاڑی سے توڑ نے کے دوران عبدالواحد صدیقی کی پگڑی گری اسے دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آگئے کیونکہ یہ ایوان سب کی عزتوں کے تحفظ کی امین ہے بابو رحیم بری طرح زخمی ہونے کے باوجود14دن تھانے میں رہے انہوں نے کہا کہ آج بھی بلوچستان اسمبلی کے باہر نرسنگ کی تعلیم حاصل کرنے والی ہماری بچیاں احتجاج کررہی ہیں بلوچستان انتہائی وسیع و عریض صوبہ ہے اس کے ایک کروڑ25لاکھ لوگ اس ایوان کے سامنے آکر اپنے حق اور مسائل کے حل کے لئے آواز بلند نہیں کرسکتے اس کے لئے وہ امید کے سہارے اپنے نمائندوں کو منتخب کرکے یہاں بھیجتے ہیں مگر افسوس کہ یہاں پانچ دن تک ارکان اسمبلی احتجاج کرتے رہے مگر کسی نے پوچھا تک نہیں انتظامیہ اور پولیس کے انتہائی جونیئر افسر یہاں آتے رہے جن کے پاس کوئی اختیار نہ تھا۔بجٹ اجلاس کے موقع پر جو کچھ ہوا وہ ایک المیہ تھا اور اس کا داغ پورے ایوان پر لگا۔ہم تین سال سے کہتے آرہے ہیں کہ بلوچستان تیزی سے اندھیروں، پسماندگی، غربت و جہالت کی طرف جارہا ہے جہاں ایسی صورت ہو وہاں انارکی ہوتی ہے بلوچستان میں کم و بیش ایسی ہی صورتحال ہے ہمارا احتجاج اس لئے تھا کہ حکومت اسمبلی کے قواعد وضوابط کے تحت پری بجٹ اجلاس بلائے۔انہوں نے کہاکہ بجٹ میں ریوڑھیاں بانٹی گئی ہیں بجٹ سے متعلق آئین کی مختلف شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے ثناء بلوچ نے کہا کہ بجٹ کو منصفانہ تقسیم کی بجائے اسے انتہائی غیر منصفانہ طریقے سے تقسیم کیاگیا ہے یہ حکومت کی نہیں بلکہ عوام کی دولت ہے ڈی ایس ای کے فورم سے منصوبے منظور کئے گئے ہیں صوبے میں ڈی ایس ای کا وجود نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی قانون سازی کی گئی ہے بجٹ میں بہت ساری خرابیاں ہیں جسے ایوان سے منظور کرکے اسمبلی کی تضحیک کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 31فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں 3ہزار سے زائد خواتین دوران زچگی فوت ہوجاتی ہیں اس کے باوجود سیمنٹ اور سریا کے لئے پیسے رکھے گئے ہیں میں نے احمدوال خاران سڑک کا منصوبہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل کرایا تھا جسے موجودہ حکومت نے پی ایس ڈی پی سے نکال دیا ڈیمز کی تعمیر کے لئے رقم جاری نہیں کی گئی خاران میں انڈسٹریل زون کے لئے ہم نے اراضی مختص کرکے حکومت کو تعمیر کے لئے پی سی ون ارسال کیا مگر وزیراعلیٰ نے اسے مسترد کردیا انہوں نے کہا کہ یہ وہ اسمبلی نہیں جہاں لوگوں کو گونگا اندھار اور بہرا سمجھ کر وسائل کی لوٹ مار کی جائے ہم نے 14روز تھانے میں دھرنا ایف آئی آر ختم کرنے کے لئے نہیں دیا صوبے میں استعماری طرز حکمرانی کو مزید چلنے نہیں دیں گے اب بھی وقت ہے حکومت اپنی غلطیاں تسلیم کرکے غیر آئینی غیر قانونی اور صوبے کے مفادات کے برخلاف بجٹ کو واپس لے کر اسے دوبارہ اسمبلی میں لائے وہ دن گئے جب بلوچستان کے وسائل کو شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کیا جاتا تھا ہم صوبے کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔


