بلوچستان ہائیکورٹ کا وائس چانسلر جامعہ بلوچستان کے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر شدید اظہار برہمی
کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس روزی خان بڑیچ پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے وائس چانسلر جامعہ بلوچستان کی عدالتی احکامات پرعملدرآمد نہ کرنے پرشدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے حکم دیاہے کہ جلد سے جلد زیرالتواء پروموشن کیسز نمٹاکرکنٹریکٹ ملازمین بارے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے،کنٹرولرامتحانات،چیف لائبریرین ودیگر انتظامی آسامیوں پر تعیناتی کاعمل دوہفتوں میں شروع اور ادارے کے پالیسی ساز اداروں کے اجلاس طلب کرکے یونیورسٹی کو 1996ء کے ایکٹ کے تحت چلایاجائے۔یہ ریمارکس ڈویژنل بینچ نے گزشتہ روز جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کی جانب سے دائرآئینی درخواست کی سماعت کے دوران دئیے۔سماعت کے دوران جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے جانب سے اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، نائب صدر فرید خان اچکزئی بلوچستان ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نذیر لہڑی اور تینوں ایسوسی ایشنز کے جنرل سیکرٹریز پروفیسر باقی جتک، نجیب اللہ ترین، عنایت اللہ بڑیچ ودیگرجامعہ کے طرف سے وائس چانسلر، رجسٹرار اور ٹریژرار پیش ہوئے۔سماعت کے دوران معزز عدالت نے گزشتہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے بارے میں وائس چانسلر جامعہ بلوچستان سے جواب طلب کی وائس چانسلر کی جانب سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد پر خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا اس پر معزز عدالت کی جانب سے شدید برہمی کا اظہار کیا اور وائس چانسلر جامعہ بلوچستان کو موقع پر احکامات صادر کئے کہ عرصہ دراز سے زیر التوا پروموشن کیسز کو جلد نمٹایا جائے تمام ریٹائرڈ کنٹریکٹ ملازمین کے بارے میں جامعہ نے جو اقدامات کئے ہیں انکی رپورٹ پیش کی جائے جامعہ کے ملازمین کے جتنے بھی مسائل ہے انکے حل کیلئے اقدامات کئے جائیں جامعہ کو ایکٹ اور رولز کے تحت چلایا اس کیلئے کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے جامعہ کے سینڈیکیٹ اور دیگر پالیسی ساز اداروں کے اجلاس ایک مہینے کے اندر منعقد کیا جائے اور کنٹرولر امتحانات،چیف لائبریرین کے آسامی سمیت دیگر اعلی انتظامی آسامیوں پر بھرتی کا عمل دو ہفتوں کے اندر شروع کیا جائے اور سنڈیکیٹ و دیگر پالیسی ساز اداروں کے پچھلے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر من و عن عمل کیا جائے اور جامعہ بلوچستان کو ہر صورت 1996 کے ایکٹ کے تحت چلا یا جائے۔ کیس کو اگلی سماعت تک ملتوی کردیا گیا۔


