مذاکرات دونوں جانب اخلاق سے کامیاب ہونگے،نواب اسلم رئیسانی
کوئٹہ:سابق وزرائے اعلیٰ بلوچستان نواب محمداسلم رئیسانی،نواب غوث بخش باروز ئی نے کہاہے کہ مذاکرات اس وقت کامیاب ہوں گے جب دونوں جانب اخلاق ہوں،ماضی میں بھی مذاکرات کئے گئے لیکن اسلام آباد میں موجود مائنڈ سیٹ کی جانب سے تسلیم نہیں کیاگیا،بلوچستان کامسئلہ سیاسی ہے تاہم موجودہ مذاکرات کودیکھناہونگے کہ کہیں اس کاحشر ماضی کی طرح نہ ہوں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں کیا۔ نواب محمداسلم رئیسانی نے کہاکہ بلوچستان کامسئلہ سیاسی ہے اس سلسلے میں ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی سوچ مثبت ہے تاہم یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ان مذاکرات کاحشر ماضی کی طرح نہ ہوں،انہوں نے کہاکہ ظاہر عمران خان کو مذاکرات کی بات اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کہی ہوگی،ماضی میں بھی مذاکرات کئے گئے لیکن اسلام آباد میں موجود مائنڈ سیٹ کی جانب سے تسلیم نہیں کیاگیا دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب غوث بخش باروزئی نے کہاکہ مذاکرات اس وقت کامیاب ہوسکتے ہیں۔ جب دونوں جانب اخلاص ہو میری تجویز ہے کہ چیف آف ساراوان نواب محمد اسلم رئیسانی،چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ زہری اور سردار اختر جان مینگل پرمشتمل بااختیار وفدتشکیل دیا جائے جو ناراض بلوچوں سے مذاکرات کرکے مسئلے کا پائیدار حل نکالیں،انہوں نے کہاکہ جب نواب اکبر خان بگٹی کے خلاف آپریشن کیاجارہاتھا کہ تو اس وقت ایک سردار کی جانب سے اعلان کیاگیاتھاکہ اگر ڈیرہ بگٹی میں ایک بھی گولی حکومت کی طرف سے چلی تو پورے بلوچستان میں ان کے خلاف زمین تنگ کرینگے لیکن بدقسمتی سے نواب اکبربگٹی کی شہادت کے بعد کہیں بھی کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔


