نیشنل پارٹی اور بی ایس او کا گوادر میں چائینز ٹرالنگ کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

کوئٹہ : نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کے زیر اہتمام بحر بلوچ گودار کے ساحل پر چائنیز ٹرالر کو غیر قانونی شکار کی اجازت کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے احتجاجی مظاہرے سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سے سنئیر نائب صدر میر کبیر احمد محمد شہی اور ضلع کوئٹہ کے صدر حاجی عطا محمد بنگلزئی مرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی بی ایس او پجار کے ممبر مرکزی کمیٹی شکیل بلوچ اور ریاض زہری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے چائینز و دیگر بین الصوبائی ٹرالرز کو شکار کی اجازت دیکر گودار کے عوام کا معاشی قتل عام کردیا۔گودار کے عوام کا واحد روزگار ماہی گیری سے وابستہ ہے جس کو وفاقی حکومت نے غیر قانونی طریقے اور بزور قوت بند کردی ہے جس کی نیشنل پارٹی مکمل مذمت کرتی ہے۔نیشنل پارٹی کے رہنماں نے کہا کہ سی پیک کے دعوے دار گودار کے عوام کو زندہ درگور کرنے میں مصروف عمل ہے۔گودار کے عوام کو صاف پانی میسر نہیں صحت و تعلیم کی سہولت میسر نہیں۔تو کہاں ہے سی پیک اور کہاں ہے ترقی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کھبی بلوچستان کے جزائر پر غیر قانونی انداز سے قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی گودار میں باڑ لگاکر عوام کو قید کرنے کی سازش کرتا ہے۔اور اب چائینز ٹرالر کو شکار کی اجازت دیکر ماہی گیروں کے روزی روٹی چیھنے کے ساتھ سمندری حیات کی نسل کشی کا مرتکب ہورہی ہے۔انہوں نے کہا بلوچستان حکومت کھٹ پتلی کا کرادر ادا کررہی ہے اور وفاقی حکومت کی بلوچ کش اقدام میں خاموش ہوکر مجرمانہ فعل کا مرتکب ہورہی ہے۔جسکی نیشنل پارٹی مکمل طور پر مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا بلوچستان ملک کا حصہ نہیں اگر ہے تو پھر دو پاکستان کی پالیسی کیوں۔ایک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دو اور دوسری کی خود کی اہمیت و شناخت کو چیلنج کردوں۔نیشنل پارٹی کو یہ منظور نہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے گوادر میں بڑے بڑے دعوے کی گودار کے عوام پوچھتے ہیں کہ ہم تو یہی پر ہے لیکن ہمارا ساتھ ناانصافی کیوں۔احتجاجی مظاہرے میں مطالبہ کیا گیا کہ فی الفور چائینز ٹرالر کو شکار کی اجازت نامے کو منسوخ کیا جائے اور گودار کے عوام کے روزگار کو بحال کیاجائے۔احتجاجی مظاہرے میں گودار کے ساحل پر شکار کی اجازت کے خلاف بھرپور نعرے بازی کی گء اور اس غیر قانونی اقدام کے خلاف پلے کارڈ اور بینرز آویزاں تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں