بی این پی کا کارکنون کو عید سادگی سے منانے کی ہدایت
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ بلوچستان کے عوام سے اپیل اور بی این پی کے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عید الضحیٰ سادگی سے منائے کیونکہ صوبے میں افراتفری کا عالم ہے لاپتہ افراد کا مسئلہ جوں کا توں ہے، امن ومان کی صورتحال ابتر ہے، صوبے کی عوام مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کررہے ہیں، مہنگائی، بے روزگاری، پانی کی قلت و دیگر مسائل نے عوام کا جینا محال کردیا ہے دوسری جانب سے افغانستان میں صورتحال کشید ہ اور خون ریزی کا سلسلہ جاری ہے ایسے صورتحال میں بی این پی کی بحیثیت ایک ذمہ دار پارٹی فرض بنتا ہے کہ ہم موجودہ صورتحال اور عوام کو درپیش مشکلات و مسائل کا ادراک کرتے ہوئے عید کی تہوار کو سادگی سے منائے۔ ملک، صوبے اور افغانستان کی موجودہ گھمبیر صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم عوام کو درپیش مشکلات و چیلنجز اور خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر عید کی تہوار سادگی سے منائے کیونکہ ہمیں ہر طرف عوام مشکل میں گری ہوئی اور مسائل سے دوچار نظر آرہے ہیں، لوگ پریشان کن صورتحال سے دوچار ہو تو ایسے میں عید کی خوشیاں دوبالا ہونے کی بجائے ماند پڑجایا کرتی ہے جہاں ہر طرف افراتفری اور انتشار و تشویش کا عالم ہو ان خطوں، ممالک، صوبوں اور خطہ زمین پر کیونکر خوشیاں اور جشن منائے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی، بے روزگاری کے چیلنجز سے نمٹنا تو کجا موجودہ حکمران عوام کو گیس، پانی، بجلی جیسے بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بھی مکمل طور پر ناکام ہے لیکن وہ ٹویٹر اور سوشل میڈیا پر ”آل از ویل“کی راگ الاپتے ہوئے نہیں تھکتے، اس وقت صوبے میں امن وامان کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہے جس کا واضح ثبوت اہم سیاسی رہنماؤں کو ٹارگٹ کرکے اغواء ودیگر شامل ہیں۔ ان دنوں بھی عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنماء ملک عبیداللہ کاسی لاپتہ ہے جن کے متعلق ابھی تک قانون نافذ کرنے والے ادارے کھوج لگانے میں ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک افغانستان کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہیں جہاں کشت و خون کا بازار گرم ہے، افغانستان کی صورتحال سے پاکستان اور بلوچستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے بھی متاثر ہونے کے شدید خطرات موجود ہیں ہمیں لگ رہا ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ چھڑ چکی ہے جس سے مزید خون خرابے کا احتمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اور بلوچ پشتون سمیت دیگر اقوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ذمہ دار شہری اور سیاسی کارکن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے موجودہ حالات کا ادراک کرے اور عید کی تہوار کو سادگی سے منائے۔


