افغانستان میں جنگ سے پڑوسی ممالک بھی محفوظ نہیں رہ سکتے،محمود خان اچکزئی

پشین :پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر ملی اتل ملی شہید محمد عثمان خان کاکڑ کی شہادت کی ملی سانحہ پر پشتونخوامیپ کے احتجاجی تحریک کے سلسلے میں ضلع پشین کے بیسوں علاقائی یونٹوں کے احتجاجی جلوسوں نے شہید عثمان کاکڑ کو سرخ سلام کے فلگ شگاف نعرے لگائے اور تاج لالا فٹبال سٹیڈیم پشین میں پارٹی کے چیئرمین محترم محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ عام کا انعقاد ہوا۔ جس سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی، ملی شہید کے فرزند ارجمند خوشحال خان کاکڑ، پارٹی رہنماؤں ڈاکٹر کلیم اللہ خان، رضا محمد رضا، عبدالرحیم زیارتوال، عبید اللہ جان بابت، عبدالرؤف لالا،محمد عیسیٰ روشان، سید لیاقت آغا، سید شراف آغا، سردار امجد ترین، سردار حنیف موسیٰ خیل نے خطاب کیا۔۔ جلسے کی قراردادیں پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن ضلع پشین کے معاون سیکرٹری عبدالحق ابدال نے پیش کی۔ محمود خان اچکزئی نے ضلع پشین کے عوام کو ملی شہید محمد عثمان کاکڑ کی نماز جنازہ، فاتحہ خوانی اور احتجاجی تحریک کے مظاہروں اور فقید المثال احتجاجی جلسہ عام کے انعقاد پر داد وتحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پشین کو پشتون قومی سیاسی تحریک میں مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے اور یہاں کے قومی سیاسی رہنماؤں وکارکنوں اور عوام نے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے دور سے لیکر قومی جدوجہد کے ہر مرحلے میں نہایت اہم اور افتخار کردار ادا کیا۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے1934میں 27سالہ نوجوان سیاسی رہنماء کی حیثیت پہلا تاریخی عدالتی بیان پشین میں دیا تھا، انہوں نے کہا کہ ہماری قومی سیاسی تاریخ میں خان شہید جیسے عظیم قومی رہنماء کی المناک شہادت کا قومی سانحہ بہت ہی عظیم تھا لیکن اس کے باوجود ہمارے عوام کا رد عمل اتنا شدید نہ تھا کیونکہ اس وقت ایک منظم قومی سیاسی پارٹی موجود نہ تھی۔ ملی شہید محمد عثمان کاکڑ اس حوالے سے بہت خوش نصیب ہیں کہ ان کی شہادت کی عظیم ملی سانحہ پر پشتون افغان ملت کی قومی سیاسی تحریک نے بھرپور اندازمیں شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور ملک کے اقوام وعوام اور خطے ودنیا کے کروڑوں عوام نے ملی شہید عثمان کاکڑ کی شہادت پر شدید غم وغصے کاظہار کیا ہے۔ وہ اس لیئے کہ اب ایک منظم سیاسی پارٹی موجود ہے اور محکوم اقوام وعوام کا قومی سیاسی شعور بیدار ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خان شہید کی شہادت پر بھی صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا اور ملی شہید عثمان خان کے شہادت کی اس عظیم سانحہ پر بھی انتہائی صبر وتحمل سے کام لے رہے ہیں کیونکہ ہمارے عظیم شہدا کی شہادتوں کا اصل بدلہ ان کی قومی ارمانوں کی تکمیل ہے اور ان کے قومی ارمان تاریخی پشتونخوا وطن کا پشتون افغان ملت کی قومی ملی وحدت، ملی تشخص پرمبنی متحدہ قومی صوبہ پشتونخوا کی تشکیل اور اپنے وطنپال عوام کی قومی جمہوری اقتدار کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ 21ویں صدی کی اس ترقی یافتہ دنیا میں افغان اور کرد ایسی دو بدقسمت قومیں ہیں جن کو قومی محکومی، محرومی اور بربادی کی انتہائی اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہے۔ ان غیور اقوام کو اس جدید عصر میں بھی اپنی تاریخی سرزمینوں پر قومی وحدت اور قومی اقتدار کا حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے افغانستان میں جاری خونریزی اور برادر کشی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں افغان حکومت کی صفائی اور حکومت مخالف طالبان دونوں ہمارے افغان بھائی ہیں ان کی جنازوں پر ہمیں دکھ ہوتا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کی انسانیت سوز جنگ سے اب اقوام عالم نے یہ درس تو حاصل کیا ہے کہ دنیا کی تمام ممالک افغانستان میں قیام امن کیلئے سرگرم عمل ہیں ایسے حالات میں ہم افغان حکومت اور طالبان سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری جنگ بندی اور امن کے قیام پر متفق ہوجائیں۔ پاکستان اورایران کو افغانوں کی تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے افغانستان میں مداخلت سے باز رہنا چاہیے۔ افغانستان میں جنگ کی دوام سے پڑوس کے ممالک بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے پاکستان کی سنگین سیاسی سماجی اور معاشی بحرانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چند اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا ان سنگین بحرانوں سے نہیں نکال سکتے۔ عقل سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ ادارے آئین کے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے آئین وقانون کی حکمرانی اورعوام کے منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی کو قبول کریں۔ ملی شہید کے فرزند ارجمند خوشحال خان کاکڑ نے پشین کے عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے عظیم والد ملی شہید عثمان لالا کی شہادت پر پشتون افغان ملت اس ملک کے محکوم قوموں اور مظلوم عوام اور خطے ودنیا کے ممالک کے کروڑوں عوام نے اس غم میں ہمارے ساتھ شریک ہوکر ہم سے جس یکجہتی کا اظہار کیا ہے اس پر ہم ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید لالا نے اپنی زندگی اپنے غیور ملت کیلئے وقف کی تھی وہ محکوم قوموں کی ملی حاکمیت، مظلوم عوام کیلئے جمہوریت اور آزاد اور جمہوری افغانستان کی ملی استقلال، سلامتی اور امن کے علمبردارتھے۔وہ 42سال تک خان شہید کی متعین کردہ قومی اہداف پشتون ملی وحدت وملی تشخص کی بحالی، اپنے عوام کی قومی جمہوری اقتدار کے قیام، تمام محکوم قوموں کی برابری وخودمختاری، ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی اور تاریخی آزاد وجمہوری افغانستان کی امن کیلئے سرگرم عمل رہے۔ انہوں نے قومی تحریک کے ہرمحاذپر شب وروز محنت کی۔ میرے لالا شہید نے جس راہ پر خود کو قربان کیا ہم نے نجات کی اس راہ پر چل کر اپنی منزل کو حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی۔ ہمارے غیور ملت کیخلاف پاکستان کے استعماری ریاست نے جبر واستبداد کا جو ناروا طرز عمل اختیار کیا ہے وہ ہمارے تاریخی وطن آزاد افغانستان پر اس نے جو ظلم وناانصافی کی ہے اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہمارے دریاؤں پر قبضہ کرکے ہمارے عوام کے خون کی ندیاں بہائی ہیں، ہماری بیش قیمت معدنیات کو لوٹ کرہمارے علاقوں میں تباہ کن مائنز بچائے گئے ہیں، ہمارے قیمتی جنگلات کو لوٹ کر ہمارے تابوت حوالے کیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پشین بائی پاس کی قیمتی زمینوں پر قبضہ کرکے کمرشل پلازے تعمیر کیئے گئے ہیں اور ہمارے عوام کا کاروبار چھین لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی پشتونخوا (فاٹا) میں جب وہاں کے عوام کے خلاف مظالم کی انتہا کی گئی ہزاروں لوگوں کا خون ناحق بہایا گیا اور عوام کی عزت وناموس کو خطرات لاحق ہوگئے تو منظور پشتین کی قیادت میں پشتون تحفظ موومنٹ وجود میں آئی۔ میرے لالا شہید نے پی ٹی ایم کے تمام برحق مطالبات کی بھرپور حمایت کی اور فاٹا کے عوام کے خلاف ناروا اقدامات کی خاتمے کیلئے موثر آواز اٹھائی۔ عثمان لالا شہید نے ملک میں عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کی تحریکوں میں کلیدی کردارادا کیا اور ملک میں آئین کی حکمرانی کیلئے پی ڈی ایم کی تحریک میں صف اول کے رہنماء کا کردار ادا کیا۔ محکوم اقوام ومظلوم عوام اور افغانستان کے حق میں لالا شہید کی آواز سب سے توانا آواز تھی یہی وجہ تھی کہ استعماری ریاست کے جابر اداروں نے میرے لالا کو بے دردی سے شہید کیا۔ انہوں نے کہاکہ میرے لالا شہید پارلیمان اور عوام کے محاذوں پر پر زور انداز سے افغانستان میں مداخلت کی خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے، ان کا موقف یہ تھاکہ افغانستان کی جنگ کفر اور اسلام کی جنگ نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ افغان دشمن استعماری قوتوں نے افغانستان کی تعمیر وترقی کے منصوبوں ڈیموں، کارخانوں اور جدید عصر کی انفراسٹریکچر کی تعمیر کو روکنے کیلئے انسانیت سوز جنگ مسلط کی ہے۔ وہ ہمیشہ کہتے رہے کہ افغانستان کی فوج آئین کے تابع ہے جبکہ پاکستان میں فوج کو آئین کی حکمرانی قبول نہیں۔ افغانستان میں تمام قومیتوں اور زبانوں کو برابری کا حق حاصل ہے جبکہ پاکستان کی قومیں اور زبانیں اپنے حقوق واختیارات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید لالا محکوم پشتونخوا وطن کے تمام جمہوری اور وطن پال قوتوں کو قومی مسائل کی حل کیلئے نیشنل ایجنڈا پر متحدکرنے کیلئے سرگرم عمل تھے۔ وہ اس حقیقت پر زور دیتے رہے کہ جب تک پشتونوں کی تمام جمہوری قوتیں متحد ومنظم ہوکر قومی محکومی سے نجات کیلئے مشترکہ جدوجہد نہیں کرتے اس وقت تک ہماری محکومی اور تباہ حالی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اسلام آباد میں افغان سفیر کی صاحبزادی کے اغواء کو پشتون افغان ملت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں ہمارے عزت وناموس کی تحفظ کی کوئی ضمانت باقی نہیں رہی۔ انہوں نے ایف سی کے اہلکار شہید خدائیداد ادوزئی کی شہادت کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدائیداد شہید نے عثمان لالا کی نماز جنازہ،فاتحہ خوانی میں شرکت کی تھی جس پر ایف سی آفیسران نے ان کو پارٹی کے خلاف کام کرنے پر مامور کرنے کی کوشش کی جس سے انکار کرنے پر ان کو بے دردی سے شہید کیا گیا لیکن ان کی شہادت کی آج تک کوئی تحقیقات نہیں کی گئی۔ پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی نے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کوان کے تاریخی رول پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم شہید کی شہادت نے اس تاریخی حقیقت کو بخوبی ثابت کیا کہ شہید مرتا نہیں ہمیشہ زندہ وجاویدان ہوتا ہے ملی شہید عثمان کاکڑ کی یاد ہمارے عوام کے ذہنو ں میں تازہ وتابندہ ہے۔وہ اپنے افکار اپنی سیاسی کردار اپنے جدوجہد وقربانیوں کے حوالے سے زندہ ہے۔ جس طرح خان شہید کے افکار زندہ ہے کیونکہ ان کے افکار پر عمل کرتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے متعین کردہ اہداف کے حصول کیلئے ان کے ساتھیوں نے جدوجہد کو جاری رکھا ہے۔ اسی طرح پشتونخوامیپ کے کارکن ملی شہید عثمان خان کی نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے افکار کی روشنی میں قومی اہداف کے حصول کیلئے اپنی جدوجہد کو تیز تر کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قومی سیاسی تحریک ایسے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی ہے کہ ہمارے لیئے غلطی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہمارے بہادر نوجوانوں نے اپنے خوشحال مستقبل کو یقینی بنانے کیلئے فیصلہ کن جدوجہد کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری قومی غلامی نے ناقابل برداشت صورت اختیار کرلی ہے، کروڑوں کی آبادی پر مشتمل اس بہادر ملت کے نوجوانوں کو صرف دو پیشے اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا ہے یا ان کو سندھ وپنجاب اور عربستان کی پردیس میں شدید گرمی میں جسمانی محنت مزدوری کرنی ہوگی یا بندوق اٹھا کر دووقت کی روٹی کی خاطر برادر کشی کی خونریز جنگ میں حصہ لینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ نے پشتون قومی تحریک کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں کی ہیں ان کی شہادت پر پشتون افغان ملت کے علاوہ محکوم اقوام اور ملک کے مظلوم عوام نے ان کی شہادت پر جس احترام کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ ہم سب کیلئے باعث افتخار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمنوں نے عثمان جیسے عظیم سیاسی رہنماء کی توانا آواز کو تو خاموش کیا لیکن ان کے مقدس لہو نے پشتون قومی سیاسی تحریک کو جو تقویت بخشی ہے اس سے دشمنوں کے ناپاک عزائم ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں