مکران میں لوگوں کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا مکران میں حالیہ مسائل پر پریس کانفرنس

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے آج کوئٹہ پریس کلب میں مکران کی حالیہ سنگین صورت حال پر پریس کانفرنس کیا گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج بلوچستان میں ایک بھی ایسا علاقہ مقام اور گاؤں نہیں جہاں لوگوں کو انصاف عدل آزادی اور بنیادی ضروریات میسر ہوں کہیں پر ریاستی جبر عروج پر ہے تو کہیں پر غربت نے لوگوں کو اپنے لپیٹ میں لیا ہے۔ بہت سے علاقوں میں کینسر تباہ کاریاں پھیلا رہا ہے تو کہیں پر ایٹمی دھماکوں کے اثرات کی وجہ سے لوگ متاثر ہیں کہیں پر تعلیم کا وجود نہیں تو کہیں پر غیرت کے نام پر خواتین اور لوگوں کا قتل عام جاری ہے۔ ان تمام مسائل اور مشکلات کے بعد اب بلوچستان میں خاص کر مکران ڈویژن میں ریاستی جبر کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کی نئی قسم نے تباہ کاریاں پھیلانا شروع کر دیا ہے۔ جس سے اب تک اطلاعات کے مطابق صرف گزشتہ ہفتے ہی 15 سے زیادہ افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ ڈیٹا محض اخبارات کی ہے جبکہ گراؤنڈ میں کورونا وائرس سیسنگین تباہیاں پھیل رہی ہیں اور ہلاکتیں بھی اس سے کئی زیادہ ہیں۔ عوام میں کورونا کے حوالے سے معلومات کی کمی اور باز جگہوں پر احتیاط کی وجہ سے لوگ اپنے پیاروں کی کورونا وائرس سے موت پر خاموش ہیں مگر ان تمام صورتحال میں جو سب سے تشویشناک بات ہے وہ حکومت اور اداروں کی ناقص کارکردگی اور غیر سنجیدہ رویہ ہے جس سے عوام مزید استحصال کا شکار ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے مزید کہا کہ مکران ڈویژن میں ایک طرف سے تو عالمی وباء کورونا وائرس پھیل چکا ہے جس سے کئی افراد کی اموات ہوئی ہے اور اس کا سلسلہ جاری ہے مگر دوسری جانب سرکار کی طرف سے ان سنگین حالات میں لوگوں کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا ہے یہ کرونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک اور لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کا سبب بن چکا ہے۔ کورونا وائرس کے شکار افراد کو تربت شہر سمیت کہیں پر بھی صحت کے بنیادی ضروریات بھی مہیا نہیں کہ وہ بنیادی علاج کروا سکیں۔ ایک طرف کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ ڈرسے اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل رہے ہیں جبکہ دوسری جانب حکومت کی طرف سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے لوگ گھروں میں سخت ذہنی اذیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ کورنا وائرس کے پیش نظر حکومت نے تربت سمیت مکران کے کئی اضلاح میں لاک ڈاؤن لگا رکھا ہے مگر بجلی کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگوں کا گھروں میں رہنا انتہائی سخت اور مشکل بن چکا ہے جس سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مکران ڈویژن میں گزشتہ کئی عرصے سے جو ظلم و جبر کی فضاء ہے وہ انتہائی خطرناک بن چکا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ایک طرف مکران کے لوگوں کا روزگار یعنی تیل کے کاروبار کو بند کر دیا گیا ہے جس سے لوگوں کا ذریعہ معاش بند ہو چکا ہے دوسری جانب ریاستی جبر کے ساتھ سرکاری جرائم پیشہ افراد یعنی ڈیتھ اسکواڈ نے لوگوں کی زندگیان مزید اجیرن بنا دی ہے تیسری جانب لوگوں کے بنیادی روزگار چھینے کے بعد انہیں کوئی روزگار بھی مہیا نہیں کیا جا رہا اور گوادر سمیت تربت پسنی اور دیگر علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی عروج پر ہے اور اب کورونا وائرس کا خطرناک وار جو وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا کی شکل میں پھیل چکی ہے لوگوں کے مشکلات اور سختیوں میں مزید اضافہ کا سبب بن چکی ہے۔ مکران کے لوگوں کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا گیا ہے جہاں ان کیلئے زندہ رہنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ اس سنگین صورتحال کو حکومت اور سرکاری ادارے مزید سنگین بنا رہے ہیں جو ناانصافیوں اور استحصالی سوچ کی انتہا ہے اگر اسکا سلسلہ یوں چلتا رہا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں میڈیا بلیک آؤٹ کی وجہ سے لوگوں کے مشکلات اور سنگین مسائل ویسے ہی باقی ماندہ پاکستان اور دنیا کے سامنے اوجھل ہیں مکران میں اس کی شدت دیگر علاقوں سے بھی زیادہ شدت سے پایا جاتا ہے۔ ایک جانب گوادر کے حوالے سے حکومتی نعرے بتاتے ہیں کہ گوادر کو دبئی اور سنگاپور بنایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب گوادر کی مقامی آبادی پینے کے پانی، بجلی روزگار سب سے محروم ہو چکے ہیں۔ گوادر سمیت کوسٹل بلٹ کے تمام علاقے بشمول گنز، پشکان، جیونی، پسنی، و اورماڑہ کے لوگوں کو اب دریا میں اپنا روزگار جاری کرنے بھی نہیں دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف لوگوں پر براہ راست ریاست جبر اور دوسری جانب ان مظلوم لوگوں کے نام پر دنیا کو گمراہ کرنا یہ سنگین جرائم ہیں جن کا ذمہ دار براہراست ریاست ہے۔ گوادر کی کرکٹ اسٹیڈیم کو تو میڈیا کی طرف سے کوریج ملتی ہے مگر وہاں کی آبادی کے مسائل اور لوگوں کے احتجاج پر کبھی بھی میڈیا کوریج نہیں دیتا جو انہیں دیگر پاکستانیوں سے مکمل طور پر الگ ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ وائرس کے اس خطرناک لہر کے پھیلاؤ کے دوران ہم ایک طرف عوام سے احتیاطی تدابیر اپنانے کی اپیل کرتے ہیں مگر دوسری جانب حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس خطرناک حالات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کرکے لوگوں کو مزید اذیت سے دوچار نہ کریں اگر حکومت نے اس رویہ کو برقرار رکھا تو اس کے خلاف پورے بلوچستان میں احتجاجی سلسلہ کا آغاز کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے آخر میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کی توسط سے ہم اعلیٰ اداروں سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان بلخصوص مکران میں حالیہ مشکلات کو کم کرنے میں اپنا بنیادی کردار ادا کریں۔ ریاستی جبر، ڈیتھ اسکواڈ کے مظالم، بے روزگاری، صحت کی بنیادی ضروریات کی غیر موجودگی اور اس کورونا وائر س کے دوران مسلسل لوڈشیڈنگ اور دیگر ان گنت مسائل کی موجودگی میں اگر سرکاری اداروں اور حکومت کا رویہ اسی طرح غیر زمہ دارانہ اور ظالمانہ رہا تو اس کے خلاف بلوچستان کے ہر کونے سے احتجاجی تحریک چلی گی۔ تاریخ اس بات کا گواہ ہے کہ بلوچستان کے جس جس کونے میں بھی مظالم رہے ہیں مکران کے لوگوں نے اسے اپنا سمجھ کر اس کے خلاف جدوجہد کی ہے اور آج جب مکران میں یہ تمام مظالم عروج پر ہیں تو بلوچستان کے باقی ماندہ علاقے کے لوگ اس درد اور غم کی حالت میں مکمل ان کے ساتھ ہیں اور انہیں اس سخت حالات میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

مکران میں لوگوں کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا مکران میں حالیہ مسائل پر پریس کانفرنس” ایک تبصرہ

  1. عزیزم بہن، ماہ رنگ بلوچ میں کراچی میں آپ کا بھائی آپ کے مسائل سمجھ سکتا ہوں۔ میں نے ایکسپریس میں بلوچستان کے کئی لکھاریوں سے بلوچستان کے مسائل پر مضامین لکھواکر شائع کروائے ہیں۔ اور خود بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا نےبلوچستان سے منہ موڑا ہوا ہے جسے احساس دلانے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ چاہیں تو ہم مستقل طور پر آپ کی تحریروں کو ایکسپریس ویب سائٹ میں جگہ دے سکتے۔ بلوچستان زندہ باد، پاکستان پائیندہ باد، سہیل یوسف فیچر ایڈیٹر، ایکسپریس اردو ویب سائٹ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں