ڈاکٹر مسیحہ یا موت کا فرشتہ
تحریر : توصیف گیلانی
پاکستان کہ تمام بڑے شہروں کے تمام پراٸیویٹ ہسپتالوں میں مریضوں کی حالت ایک ہی جیسی ہے ۔
خاص طور پر کوٸٹہ شہر کے ہسپتالوں میں تو ڈاکٹر دن رات اپنی کمیشن کیلیے مریضوں کو زبح کر رہے ہیں۔ انکے باقاعدہ ایجنٹ موجود ہیں۔جو ہسپتال کے اندر بھی موجود ہیں۔
پرچی دینے والے کی شکل میں میڈیکل والے کی صورت میں اور روازانہ کی بنیاد پر ڈاکٹر کو پراٸیویٹ کلینک چلانے کیلیے مریضوں کی اشد ضرورت ہے۔ جس کیلیے ڈاکٹر اور اس کے چیلے انسانوں کا سودا کرتے ہیں۔ انکی غربت۔ مفلسی۔بے بسی۔ بیماری کا فاٸدہ اٹھاتے ہیں۔ ایسے ایسے ایجنٹ بھی ہیں۔ جو مختلف کلیوں گلی۔ محلوں اور علاقوں سے روزانہ کی بنیاد پر مریض لےکر آتے ہیں۔
ایسے ایجنٹ بھی کام کر رہے ہیں۔ جو باقاعدہ طور پرافغان باڈر سے ڈاٸریکٹ مریض کو ڈاکٹر تک پہنچاتے ہیں۔ اور ان پراٸیویٹ ہسپتالوں میں تمام چھوٹے بڑے ڈاکٹر ان ٹیکسی ڈراٸیوروں کو باقاعدہ مریض پہنچانے پر اچھی خاصی کمیشن دیتے ہیں ۔جتنے زیادہ ٹیسٹ اتنی زیادہ کمیشن ملتی ہے۔یہ تمام ڈاکٹر سرکار سے تنخواہیں اور مراعات بھی لے رہے ہیں۔ اور انمیں بہت سے ڈاکٹر باقاعدہ اپنے محمکے کی کالی بھیڑوں کے ساتھ ملوث ہیں۔ سرکاری ڈیوٹی پر نہ جانے کی باقاعدہ ماہوار کمیشن دیتے ہیں۔ کافی ایسے سرکاری ڈاکٹر بھی ہیں۔ جو سرکاری چھٹی پر تنخواہ بھی لے رہے ہیں اور دس پندرہ سالوں سے باہر کے ممالک میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اور کلینک اور ہسپتال چلا رہے ہیں ۔یہ ڈاکٹر پراٸیویٹ ہسپتالوں میں بیٹھ کر ایک عام مریض سے فیس تو وصول کر ہی رہے ہیں۔ اسکے بلاوجہ ٹیسٹ کرواٸے جاتے ہیں۔ اسکو ضرورت سے زیادہ دواٸیں دی جاتی ہیں۔ انکے بلاوجہ آپریشن کٸے جاتے ہیں۔ایک چھوٹا ڈاکٹر روزانہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے میریضوں کا خون چوس کر کما رہا ھے۔ اور بڑے ڈاکٹر ڈیڈھ سے دواور تین لاکھ روپے روزانہ کما رہے ہیں۔
انہیں اس بات سےقطعی غرض نہی کہ مریض زندہ رہتا ہے یا نہی انہے روز نٸے نٸےمریض چاہیے ۔ یہ ہر دوسرے مریض کو ملتی جلتی دواٸیں دیتے ہیں۔ جس کے بدلے انھیں ادویات کی کمپنیاں کمیشن اور مختلف قسم کے دورے اور عیاشیاں کرواتی ہیں۔حکومت ان تمام پراٸیویٹ ہسپتالوں میں بیٹھے ڈاکٹروں کہ خلاف کوٸی کارواٸی نہی کر رہی۔ سب کچھ دیکھنے کہ باوجود حکومت نے آنکھیں بند کی ہوی ہیں۔
چند روز قبل کوٸٹہ کہ ایک معروف ڈاکٹر کی موت ہوی ۔ سوشل میڈیا پر موصوف کی جو عزت ہوی وہ آپ سب دیکھ چکے ہیں۔
جیسی کرنی ویسی بھرنی۔
ایسے تمام ڈاکٹروں ہسپتالوں اور دونمبر ادویات کی کمپنیوں خلاف سخت کارواٸی ہونی چاہیے۔ جنکی کوٸٹہ شہر میں بھرمار ہے۔عوام سے بھی گزارش ہے۔ انکے خلاف ایک تحریک چلاٸیں۔ اور بلاوجہ ڈاکٹر کے پاس نہ جاٸیں۔ کوشش کریں کسی معمولی گلی محلے کہ ڈاکٹر کی دوا سے علاج ممکن ھے تو کرواٸیں۔
پرانے دور میں ایک گلی کی نکر کا ڈاکٹر ہر مریض کا علاج کسی ٹیسٹ کے بغیر کردیتا تھا۔ آج اتنے ٹیسٹوں اور دواٶں کے باوجود کوٸی عصر نہی اور مریض کو مستقل دواٶں کے رحمو ں کرم پر چھوڑ دیا جاتا ھے۔
اکثر مریض ان ڈاکٹروں کے غلط علاج اور دواٶں کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حساب کون دیگا۔


