سردار، مذاکرات اور گونجتی ہوئی فریادیں

تحریر: شےحق صالح بلوچ

بند کمروں میں کیے گئے فیصلے اور اس کے بعد بلوچوں کی گونجتی ہوئی فریادیں اب ایک انوکھی بات نہیں رہے گی بلکہ ہر دور اقتدار والوں کے لیے یہ کام سوال نمبر ایک رہا ہے جو کہ عموماً لازمی ہوتی ہے۔دور اقتدار جس کسی کا بھی ہو لیکن بلوچستان میں ایک نعرہ ضرور لگتی ہے جو کہ نعرہ عام سمجھا جاتا ہے "ہم کو انصاف دو”۔ کبھی طلباء ، کبھی عوام ، اور کبھی ملازمین۔ بلوچستان کی سیاسی تاریخ بہت گہرا اور پیچیدہ ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہم ہر دور میں امن کی تلاش میں رہے ہیں۔
امن کے ساتھ ساتھ بھوک اور پیاس مٹانے کے لیے ہم سرحد پار جانے تک مجبور ہوئے ہیں۔جب گونجتی ہوئی فریادیں اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کو سنائی دیتی ہے تو ماضی کی طرح مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہیں جو ہر دور کی طرح بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرتے رہیں گے۔ ہر دور کی طرح مذاکراتی کمیٹیوں میں قبائلی سردار اور نواب رہیں ہیں۔ 70 سال سے بلوچوں کی گونجتی ہوئی فریادیں اور ہر دور میں نوابوں اور سرداروں کی حکومت۔ دور اقتدار والے صرف نوابوں اور سرداروں سے مذاکرات کی بات کیوں کرتے ہیں آخر عام بلوچ کو انسان نہیں سمجھتے۔

تاریخ گواہ ہے کہ 2006 میں نواب اکبر خان بگٹی کو جب شہید کر دیا گیا تھا تو قلات کے مقام پر ایک جرگہ بلایا گیا تھا جس میں سرداروں اور نوابوں نے سوگنداٹھائی تھی کہ آئندہ ریاست کا ساتھ نہیں دیں گے۔نوابوں اور سرداروں کے بدلتے ہوئے نظریات اور عام بلوچ کی گونجتی ہوئی فریادیں دور اقتدار والوں کے لیے ایک سبق چھوڑ کر جا رہے ہیں۔کیا مذاکراتی کمیٹیوں میں عام بلوچ کی گونجتی ہوئی فریادوں پر بات ہوگی؟عام بلوچ کی گونجتی ہوئی فریادوں میں صاف سنائی دیتی ہے کہ اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں ، پانی کی تلاش میں ہیں ،امن کی تلاش میں ہے یا بھوک مٹانے کی تلاش میں ہے۔اقتدار میں رہنے والوں کی کارکردگی دیکھ کر مجھے یہ شعر یاد آتا ہے۔جیسا کہ حبیب جالب فرماتے ہیں۔
ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا ممکن ہے؟ تم ہی کہو
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ پاکستان کی واشنگٹن کے نزدیک ایک زبردست اہمیت کا راز بلوچستان بھی ہے۔تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ اسلام آباد کے تخت پر بیٹھنے والے حکمران اپنے اقتدار کو طول اور معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں