افغانستان طالبان کیخلاف پاکستان سے پھر مدد مانگ لی، لڑائی فوری طور پر روکی جائے، سلامتی کونسل

نیو یارک (انتخاب نیوز) افغانستان میں جاری لڑائی و تشدد پر غوراور حالات معمول پر لانے کیلئے سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا اجلاس میں طالبان پر شدید تنقید کی گئی اور حکومت و جنگجوؤں سے لڑائی فوری روکنے کی اپیل کی گئی۔ اجلاس میں افغان حکومت کے نمائندے نے طالبان کے خلاف پاکستان سے ایک بار پھر مدد مانگ لی۔ سلامتی کونسل کا اجلاس افغان حکومت کی درخواست پر ہوا۔ جس کی صدارت بھارت نے کی اجلاس میں پاک بھارت امریکہ، روس اور چین سمیت مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں بھارت کے مستقل مندوب تھری مورتی نے کہا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد حالات بہت کشیدہ ہیں۔ امریکی نمائندے نے کہا کہ دہشت گردی کے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں جبکہ آدھے طالبان قابض ہوچکے ہیں پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغان جنگ کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے ہم افغانستان میں مکمل قیام امن کے خواہاں ہیں اورطاقت کے زور پر آنے والی حکومت کوتسلیم نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دونوں متحرک گروپ جنگ چھوڑ کرامن کی جانب واپس آئیں اور مل بیٹھ کر مسئلہ مذاکرات سے حل کیا جائے۔ افغان مندوب نے کہا کہ جنگ سے گزشتہ ماہ ہزاروں شہری مارے جاچکے ہیں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ افغان مندوب نے جنگجوؤں کے خلاف اور افغانستان میں امن کے لئے پاکستان سے آگے بڑھنے کی اپیل کی اور کہا کہ افغانستان میں امن کے لئے وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ سلامتی کونسل نے لڑائی پرطالبان قیادت پر شدید تنقید کی اور اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ طالبان لڑائی فوری بند کردیں۔ اجلاس میں افغانستان میں قیام امن کے لئے طالبان قیادت کی سفری پابندیوں کو مشروط کرنے کا بھی کہا گیا۔افغان طالبان نے امریکی فوج کے فضائی حملوں کے جواب میں اپنی حکمت عملی بدلتے ہوئے دیہی علاقوں کی بجائے صوبائی شہروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق تین طالبان کمانڈروں نے اس نئی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ایک امریکی کمانڈر نے بتایا کہ امریکہ نے طالبان کے حملوں کو روکنے کے لیے گذشتہ ماہ اپنے فضائی حملوں میں اضافہ کیا ہے جبکہ طالبان نے امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔اس وقت ایران کی ساتھ متصل مغربی سرحد کے قریب واقع شہر ہرات، ہلمند صوبے کے دارالحکومت لشکرگاہ اور جنوب میں واقع قندھار شہر میں شدید لڑائی جاری ہے۔افغان طالبان نے پیش قدمی کرتے ہوئے صوبہ نمروز کے دارالحکومت پر قبضہ کرلیا جو کسی بھی صوبائی دارالحکومت پر ان کا پہلا قبضہ ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق نمروز کی صوبائی پولیس نے کہا کہ طالبان نے صوبائی دارالحکومت زرنجان پر قبضہ کرلیا ہے جو کسی بھی صوبائی حکومت پر ان کا پہلا قبضہ ہے۔طالبان نے پاکستان، افغانستان کی سرحد کو سپین بولدک کے مقام پر ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے بند کر دیا ہے۔برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے کہا ہے کہ جب تک پاکستان ایسے افغان پناہ گزینوں کو آنے جانے کی اجازت نہیں دیتا جن کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود ہیں، تب تک یہ سرحد بند رہے گی،طالبان نے جمعہ کوافغان دارالحکومت کابل میں حکومتی میڈیا کے انچارج دواخان مینہ پال کو قتل کردیا۔ کابل پولیس کے سربراہ فردوس پرامرز نے مینہ پال کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شہر کے دالامان کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں مینہ پال کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جمعہ کو ایک حملے میں ہلاک کیا گیا ہے۔افغان حکام نے 17صوبوں میں کیے جانے والے آپریشنز میں 400سے زائد طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔افغان وزارت دفاع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھا ہے، تازہ ترین کارروائیاں ننگرہار، لغمان، غزنی، پکتیا، خوست، قندھار، زابل میں کی گئیں۔افغان وسطی صوبہ میدان وردک میں مسافر گاڑی پر راکٹ حملہ کے نتیجے میں 5 افغان شہری جاں بحق اور 7 دیگر شدید زخمی ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں