طالبان کا عبدالرشید دوستم کے گڑھ پر قبضہ

کابل (ویب ڈیسک) افغانستان میں شدید لڑائی جاری ہے، افغان طالبان نے ایک اور صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کر لیا، صوبہ جوزجان کے صوبائی دارالحکومت شبرغان پر قبضہ کر لیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 24 گھنٹوں میں یہ افغان طالبان کے قبضے میں جانے والا دوسرا صوبائی دارالحکومت ہے۔ شبرغان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ افغان جنگجو عبدالرشید دوستم کا آبائی علاقہ ہے۔جوزجان کے ڈپٹی گورنر قادر ملیا نے اے ایف کو بتایا کہ حکومتی افواج اور حکام ہوائی اڈے تک دھکیل دیا گیا ہے۔ نمروز صوبے کا شہر زرنج بغیر کسی لڑائی کے طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا، جو ان کے قبضے میں جانے والا پہلا صوبائی دارالحکومت تھا۔پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ زرنج کو شدت پسندوں نے اس لیے قبضے میں لیا کیونکہ مغرب حمایت یافتہ حکومت کی جانب سے مدد میں کمی رہی۔اے ایف پی کے مطابق زرنج کے مقابلے میں شبرغان میں طالبان کے خلاف مزاحمت دیکھنے میں آئی تاہم دوستم کے ایک ساتھی نے شہر پر قبضہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔افغانستان کی سرکاری فورسز کی جانب سے شروع کی گئی ایک روزہ کارروائیوں اور فضائی حملوں میں تقریبا 350 عسکریت پسند ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ہفتہ کے اوائل میں متعدد شہروں میں جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔فوج کی 215 ویں میوند کور نے ایک بیان میں کہا کہ افغان فضائیہ کی حمایت یافتہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے جنوبی صوبہ ہلمند اور مغربی صوبہ نمروز میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملوں میں کم از کم 276 طالبان عسکریت پسند ہلاک اور 47 عسکریت پسند زخمی ہوئے ہیں۔ہلاک ہونیوالوں میں نمروز کیلئے طالبان کا فرضی گورنر عبدالخالق عرف آقا عابد بھی شامل ہے۔ طالبان عسکریت پسندوں نے جمعہ کے روز حملہ کر کے نمروز کے دارالحکومت زرنج پر قبضہ کر لیا ہے۔بیان کے مطابق مذکورہ صوبوں میں عسکریت پسندوں کی 8 گاڑیاں، 5 موٹرسائیکلیں اورایک ہیوی گن تباہ کر دی گئی ہے۔مئی میں امریکہ کی زیرقیادت فوجیوں کا انخلا شروع ہونے کے بعد سے اب تک طالبان عسکریت پسندوں نے سیکورٹی فورسز کیخلاف اپنی لڑائی جاری رکھی ہوئی ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران افغانستان کے متعدد شہر اور ملک کے 34 صوبوں میں سے تقریباً نصف صوبوں میں شدید لڑائیاں جاری ہیں اور سڑکیں میدان جنگ بنی ہوئی ہیں۔فوج کی 209 ویں شاہین کور نے بتایا کہ عوامی مزاحمتی قوتوں کی حمایت سے سیکورٹی فورسز نے شمالی صوبہ جوزجان کے دارالحکومت شبرغان شہر سے طالبان کو بے دخل کر دیا ہے اور تقریبا 40 عسکریت پسند ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ شہر حالیہ دنوں میں سڑکوں پر شدید جھڑپوں اور لڑائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے سبب امریکی اور برطانوی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو افغانستان چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی سفارت خانے کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی شہری فوری دستیاب کمرشل پروازوں سے افغانستان سے روانہ ہو جائیں۔امریکی سفارت خانے کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمرشل پروازوں کے ٹکٹ نہ خرید سکنے والوں کو قرضہ بھی دیا جائے گا۔دوسری جانب افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے باعث برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو افغانستان چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکا نے پاکستان کیلئے سفری پابندیوں میں نرمی کردی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کے لیے اپنی ٹریول ایڈوائزری پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے ’سفر نہیں کریں‘ سے اپ گریڈ کرتے ہوئے ’غیر ضروری سفر سے گریز کریں‘ کی فہرست میں شامل کرلیا۔محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری سفری ہدائت نامے میں کہا گیا ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے انسداد دہشت گردی اور انسداد عسکریت پسندی کے لیے مؤثر آپریشنز کیے، 2014 کے بعد سے پاکستان کا سیکیورٹی ماحول بہتر ہوا ہے۔ ہدائت نامے میں کہا گیا ہے کہ بڑے شہروں خاص طور پر اسلام آباد میں زیادہ سے زیادہ حفاظتی وسائل اور بنیادی ڈھانچے موجود ہیں اور ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں ہنگامی صورتحال کا جواب دینے کے لیے زیادہ فعال ہو سکتی ہیں۔نظرثانی ایڈوائزری میں نشاندہی کی گئی کہ اگرچہ خطرات اب بھی موجود ہیں لیکن اسلام آباد میں دہشت گرد حملے کم ہوتے ہیں۔ محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں پر زور دیا گیا کہ ’دہشت گردی اور فرقہ ورانہ تشدد کی وجہ سے پاکستان کے سفر پر نظرثانی کریں ‘ تاہم اس میں کووڈ 19 کی وجہ سے اضافی احتیاط کی تجویز دی گئی کیونکہ ’کچھ علاقوں میں خطرہ بڑھ گیا ہے‘۔ امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی اور اغوا کی وجہ سے سابق فاٹا، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا سفر نہ کریں۔ایڈوائزری میں دہشت گردی اور مسلح تصادم کے امکان کی وجہ سے کنٹرول لائن کے قرب و جوار میں سفر نہ کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔ ایڈوائزری میں امریکی شہریوں کو باور کرایا گیا کہ امریکی حکومت، پاکستان میں سیکیورٹی ماحول کی وجہ سے ہنگامی خدمات فراہم کرنے کی محدود صلاحیت رکھتی ہے، امریکی حکومت کے اہلکاروں کا پاکستان کے اندر سفر محدود ہے اور پشاور میں امریکی قونصل خانہ امریکی شہریوں کو قونصل خدمات فراہم نہیں کرتا‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں